محمد نوید مرزا ۔۔۔ رنگوں کا اک جہاں مرے اندر نہیں کھلا

رنگوں کا اک جہاں مرے اندر نہیں کھلا خوشبو کے باوجود گُلِ تر نہیں کھلا لہروں کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا میں تشنہ لبی میں ، مجھ پہ سمندر نہیں کھلا اک خواب تھا ، میں جس کو نہ تعبیر دے سکا ذہنوں پہ منکشف تھا ، زباں پر نہیں کھلا میں جس پہ دستکوں کے نشاں چھوڑ کر گیا حیراں ہوں کائنات کا وہ در نہیں کھلا میں اُس کی جستجو میں رہا ہوں تمام عمر یہ اور بات مجھ پہ ستم گر نہیں کھلا

Read More

جمیل یوسف ۔۔۔ رافی

رافی ۔۔۔۔۔ برگِ گُل سے بنائی مورت ہو ہائے تم کتنی خوبصورت ہو میرے احساس کی تجلی ہو میرے وجدان کی بشارت ہو نبضِ ہستی کو جو رواں رکھے تم مرے خوں میں وہ حرارت ہو میں جسے آج تک سمجھ نہ سکا تم محبت کی وہ بجھارت ہو میرے فکر و خیال کی رفعت میرے جذبات کی طہارت ہو شعر و عرفاں کی روشنی ہو تم کس قدر خوشنما عبارت ہو دھیان جس کا طواف کرتا ہے دل کی نگری میں وہ زیارت ہو دل کو پھر زندہ کر…

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ آئنہ دل اور ستارہ ٹوٹ کر

آئنہ دل اور ستارہ ٹوٹ کر جڑ نہیں سکتا دوبارہ ٹوٹ کر آج بھی ہے آنکھ میں اُس کی خلش چبھ گیا تھا اک نظارہ ٹوٹ کر اُس کے قدموں میں بکھرنے کے لیے پھول کرتے ہیں اشارہ ٹوٹ کر زندگی کیا ہے بڑی آسانی سے کہہ گیا مجھ کو ستارہ ٹوٹ کر جا لگا چُپ چاپ دریا کے گلے ایک دن آخر کنارہ ٹوٹ کر تم کو ثابت دیکھ کر حیرت ہوئی جس جگہ پر ہے گزارہ ٹُوٹ کر ہاتھ کب آتا ہے راحت سرحدی تار سے گیسی غبارہ…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ صفدر صدیق رضی

حمد لکھوں گا میں ہر صنفِ سخن سے پہلے یوں تِرا نام زباں پر ہے دَہن سے پہلے تجھ کو رکھا گیا جب کچھ بھی نہ رکھا تھا کہیں دل بنایا گیا سینے میں بدن سے پہلے جتنا بہتر ہوں میں اب تک تری توفیق سے ہوں میں گنہگار تھا اس چال چلن سے پہلے اس بلا وجہہ تکلف کی ضرورت کیا تھی میں ترے ساتھ ہی تھا دارورسن سے پہلے سجدہ کرتا ہوں تو احساسِ ندامت کے ساتھ درد ہوتاہے مرے دل میں چبھن سے پہلے یا الٰہی مجھے…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ اشرف کمال

سر چھپانے کے لیے دھوپ میں گھر دیتا ہے وہ خدا ہے جو اندھیروں کو سحر دیتا ہے میرے بگڑے ہوئے حالات سنوارے گا ضرور وہ جو سوکھے ہوئے پیڑوں کو ثمر دیتا ہے میرا سرمایہ بنے حمد وثنا کے آداب میرا خالق مجھے لفظوں کا ہنر دیتا ہے کس محبت سے وہ سنتا ہے دعائیں سب کی ٹوٹے پھوٹے ہوئے لفظوں میں اثر دیتا ہے جستجو تیری کہاں بیٹھنے دیتی ہے مجھے تو مجھے روز نیا اذنِ سفر دیتا ہے حوصلہ مند کو مایوس نہیں کرتا کبھی وہ گزرنے…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو

آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو نغمہ ہو جاتا ہے بے کیف اگر ساز نہ ہو میں نے منزل کے لیے راہ بدل دی ورنہ روک لے دیر جو کعبہ خلل انداز نہ ہو مرتے مرتے بھی کہا کچھ نہ مریض غم نے پاس یہ تھا کہ مسیحا کا عیاں راز نہ ہو ساقیا جام ہے ٹوٹے گا صدا آئے گی یہ مرا دل تو نہیں ہے کہ جو آواز نہ ہو اے دعائے دلِ مجبور وہاں جا تو سہی لوٹ آنا درِ مقبول اگر باز…

Read More

انشااللہ خان انشا ۔۔۔ اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم اچھا

اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم اچھا لو ہم بھی نہ بولیں گے خدا کی قسم اچھا   مشغول کِیا چاہیے اِس دل کو کسی طور لے لیویں گے ڈھونڈ اور کوئی یار ہم اچھا   گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائی ہر طور غرض آپ سے ملنا ہے کم اچھا   اغیار سے کرتے ہو مرے سامنے باتیں مجھ پر یہ لگے کرنے نیا تم ستم اچھا   ہم معتکفِ خلوتِ بت خانہ ہیں اے شیخ جاتا ہے تو جا تُو پئے طوفِ…

Read More

نذیر قیصر ۔۔۔ فصلِ گل آئے زمانے ہو گئے

فصلِ گل آئے زمانے ہو گئےزخم شاخوں کے پرانے ہو گئے خاک اُڑا کر رہ گئی موجِ صبادفن مٹی میں خزانے ہو گئے کھڑکیوں میں پھول کھلتے تھے جہاںوہ گلی کوچے فسانے ہو گئے کچھ تو ہم پہلے ہی تھی آشفتہ سراور کچھ تیرے بہانے ہو گئےلوٹ آئے تیر اپنی ہی طرفگم خلاؤں میں نشانے ہو گئے

Read More

سعید الزماں عباسی

تم کیا اسیرِ رسم و روایات ہو گئے دنیا رہینِ گردشِ حالات ہو گئی ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید

Read More