قمر جلالوی ۔۔۔ انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ ہے سخاوت میں مجھے اتنا ہی اندازۂ گل

ہے سخاوت میں مجھے اتنا ہی اندازۂ گل بند ہوتا نہیں کھل کر کبھی دروازۂ گل برق پر پھول ہنسے، برق نشیمن پہ گری میرے تنکوں کو بھگتنا پڑا خمیازۂ گل خیر گلشن میں اُڑا تھا مری وحشت کا مذاق اب وہ آوازۂ بلبل ہو کہ آوازۂ گل کوششیں کرتی ہوئی پھرتی ہے گلشن میں نسیم جمع ہوتا نہیں بکھرا ہو شیرازۂ گل اے صبا کس کی یہ سازش تھی کہ نکہت نکلی تو نے کھولا تھا کہ خود کھل گیا دروازۂ گل

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ

گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ سامان خاک آیا تھا انساں کے ساتھ ساتھ صرف ایک روح تھی تنِ عریاں کے ساتھ ساتھ اے ناخدا وہ حکمِ خدا تھا جو بچ گئی کشتی کو اب تو چھوڑ دے طوفاں کے ساتھ ساتھ اے باغباں گلوں پہ ہی بجلی نہیں گری ہم بھی لٹے ہیں تیرے گلستاں کے ساتھ ساتھ تم میرا خوں چھپا تو رہے ہو خبر بھی ہے دو دو فرشتے رہتے ہیں انساں کے ساتھ ساتھ اہلِ…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ کسی کو دل مجھے دینا تو ناگوار نہیں

کسی کو دل مجھے دینا تو ناگوار نہیں مگر حضور زمانے کا اعتبار نہیں وہ آئیں فاتحہ پڑھنے اب اعتبار نہیں کہ رات ہو گئی دیکھا ہوا مزار نہیں کفن ہٹا کے وہ منہ بار بار دیکھتے ہیں ابھی انھیں مرے مرنے کا اعتبار نہیں

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ کریں گے شکوۂ جورو جفا دل کھول کر اپنا

کریں گے شکوۂ جورو جفا دل کھول کر اپنا کہ یہ میدانِ محشر ہے نہ گھر ان کا نہ گھر اپنا مکاں دیکھا کیے مڑ مڑ کے تا حدِ نظر اپنا جو بس چلتا تو لے آتے قفس میں گھر کا گھر اپنا بہے جب آنکھ سے آنسو بڑھا سوزِ جگر اپنا ہمیشہ مینہ پرستے میں جلا کرتا ہے گھر اپنا پسینہ، اشکِ حسرت، بے قراری، آخری ہچکی اکھٹا کر رہا ہوں آج سامانِ سفر اپنا یہ شب کا خواب یا رب فصلِ گل میں سچ نہ ہو جائے قفس…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔

داستاں اوراقِ گل پر تھی مجھی ناشاد کی بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی مجھ سے روٹھا ہے خودی دیکھو بتِ جلاد کی مدعا یہ ہے کہ کیوں اللہ سے فریاد کی قبر ٹھوکر سے مٹا دی عاشقِ ناشاد کی یہ بھی اک تاریخ تھی ظالم تری بیداد کی کیا ملے دیکھیں اسیروں کو سزا فریاد کی آج کچھ بدلی ہوئی سی ہے نظر صیاد کی رات میں بلبل تجھے سوجھی تو ہے فریاد کی آنکھ سوتے سے نہ کھل جائے کہیں صیاد کی آگیا ان کو رحم…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ توبہ کیجے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا

توبہ کیجے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا خود نہ سمجھے ذبح ہونے والے سمجھائیں گے کیا بات پہنچے گی کہاں تک آپ کہلائیں گے کیا بزمِ کثرت میں یہ کیوں ہوتا ہے ان کا انتظار پردۂ وحدت سے باہر نکل آئیں گے کیا کل بہار آئے گی یہ سن کر قفس بدلو نہ تم رات بھر میں قیدیوں کے پر نکل آئیں گے کیا اے دلِ مضطر انھیں باتوں سے چھوٹا تھا چمن اب ترے نالے قفس سے بھی نکلوائیں…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ ہم خیالِ قیس ہوں ہم مشربِ فرہاد ہوں

ہم خیالِ قیس ہوں، ہم مشربِ فرہاد ہوں حسن اتنا سوچ لے: دو بیکسوں کی یاد ہوں پاشکستہ، دل حزیں، شوریدہ سر، برباد ہوں سر سے لے کر پاؤں تک فریاد ہی فریاد ہوں حالِ گلشن کیا ہے اے نوواردِ کنجِ قفس میں تو مدت سے اسیرِ خانۂ صیاد ہوں خیریت سن لی گل و غنچے کی لیکن اے صبا یاد ہیں مجھ کو تو سب، میں بھی کسی کو یاد ہوں تم سرِ محفل جو چھیڑو گے، مجھے پچھتاؤ گے جس کو سن سکتا نہیں کوئی میں وہ فریاد…

Read More