استاد قمر جلالوی ۔۔۔ دل انھیں کیا دیا قرار نہیں

دل انھیں کیا دیا قرار نہیں عشق کو حسن ساز گار نہیں دل کے اوپر نگاہِ یار نہیں تیر منت کشِ شکار نہیں اب انھیں انتظار ہے میرا جب مجھے ان کا انتظار نہیں شکوۂ بزمِ غیر ان سے عبث اب انھیں اپنا اعتبار نہیں منتظر شام کے رہو نہ قمر ان کے آنے کا اعتبار نہیں

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔۔ کیونکر رکھو گے ہاتھ دلِ بے قرار پر

کیونکر رکھو گے ہاتھ دلِ بے قرار پر میں تو تہِ مزار ہوں تم ہو مزار پر یہ دیکھنے، قفس میں بنی کیا ہزار پر نکہت چلی ہے دوشِ نسیم بہار پر گر یہ ہی جور و ظلم رہے خاکسار پر منہ ڈھک کے روئے گا تو کسی دن مزار پر ابرو چڑھے ہوئے ہیں دلِ بے قرار پر دو دو کھنچی ہوئی ہیں کمانیں شکار پر رہ رہ گئی ہیں ضعف سے وحشت میں حسرتیں رک رک گیا ہے دستِ جنوں تار تار پر شاید چمن میں فصلِ بہاری…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔

حسن سے رسوا نہ ہو گا اپنے دیوانے کا نام شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام ہو گئی توبہ کو اک مدت کسے اب یاد ہے اصطلاحاً ہم نے کیا رکھا تھا پیمانے کا نام میتِ پروانہ بے گور و کفن دیکھا کئے اہلِ محفل نے لیا لیکن نہ دفنانے کا نام یہ بھی ہے کوئی عیادت دو گھڑی بیٹھے نہ وہ حال پوچھا چل دیے گھر کر گئے آنے کا نام لاکھ دیوانے کھلائیں گل چمن کہہ دے گا کون عارضی پھولوں سے بدلے…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ حرم کی راہ کو نقصان بت خانے سے کیا ہوگا

حرم کی راہ کو نقصان بت خانے سے کیا ہوگا خیالاتِ بشر میں انقلاب آنے سے کیا ہوگا کسے سمجھا رہے ہیں آپ سمجھانے سے کیا ہوگا بجز صحرا نوردی اور دیوانے سے کیا ہوگا ارے کافر سمجھ لے انقلاب آنے سے کیا ہوگا بنا کعبہ سے بت خانہ تو بت خانے کو کیا ہوگا نمازی سوئے مسجد جا رہے ہیں شیخ ابھی تھم جا نکلتے کوئی دیکھے گا جو مے خانے سے کیا ہوگا خدا آباد رکھے میکدہ یہ تو سمجھ ساقی ہزاروں بادہ کش ہیں ایک پیمانے سے…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ نہ روکی برق تو نے آشیاں بدلے چمن بدلے

نہ روکی برق تو نے آشیاں بدلے چمن بدلے یہ کب کے لے رہا ہے ہم سے اے چرخِ کہن بدلے محبت ہو تو جوئے شِیر کو اِک ضرب کافی ہے کوئی پوچھے کہ تو نے کتنے تیشے کوہکن بدلے سہولت اس سے بڑھ کر کارواں کو اور کیا ہو گی نئی راہیں نکل آئیں پرانے راہزن بدلے ہوا آخر نہ ہمسر کوئی ان کے روئے روشن کا تراشے گل بھی شمعوں کے چراغِ انجمن بدلے لباس نَو عدم والوں کو یوں احباب دیتے ہیں کہ اب ان کے قیامت…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی

آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی پوری کیا موسیٰؑ تمنا طور پر ہو جائے گی تم اگر اوپر گئے نیچی نظر ہو جائے گی کیا ان آہوں سے شبِ غم مختصر ہو جائے گی یہ سحر ہونے کی باتیں ہیں سحر ہو جائے گی ؟ آ تو جائیں گے وہ میری آہِ پر تاثیر سے محفلِ دشمن میں رسوائی مگر ہو جائے گی کس سے پوچھیں گے وہ میرے رات کے مرنے کا حال…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی

بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی شبِ وعدہ اول تو آتے نہیں تھے جو آئے بھی تو رات ایسی گنوائی کبھی رات کو تم نے گیسو سنوارے کبھی رات کو تم نے مہندی لگائی گلہ بے وفائی کا کس سے کریں ہم ہمارا گلہ کوئی سنتا نہیں ہے خدا تم کو رکھے جوانی کے دن ہیں تمھارا زمانہ تمھاری خدائی ہر اک نے دیے میرے اشکوں پہ طعنے…

Read More

استاد قمر جلالوی

ایک جا رہنا نہیں لکھا میری تقدیر میں آج گر صحرا میں ہوں کل خانۂ زنجیر میں اقربا نا خوش وہ بزمِ دشمنِ بے پیر میں موت ہی لکھی ہی کیا بیمار کی تقدیر میں بات کر میری لحد پر غیر ہی سے بات کر یہ سنا ہے پھول جھڑتے ہیں تری تقریر میں سیکھ اب میری نظر سے حسن کی زیبائشیں سینکڑوں رنگینیاں بھر دیں تری تصویر میں پاسِ آدابِ اسیری تیرے دیوانے کو ہے ورنہ یہ زنجیر کچھ زنجیر ہے زنجیر میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں ان کو وہ…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے

عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے ذرے تک میں تو ہی تو ہے خاک زمانہ چھانے ہے چھاننے دو دیوانہ ان کا خاک جو در در چھانے ہے کوئی کسی کو کیا سمجھائے کون کسی کی مانے ہے میں اور مے خانے میں بیٹھا شیخ ارے ٹک توبہ کر مردِ خدا میں جانوں نہ تانوں مجھ کو تو کیوں سانے ہے مے خانے میں دنیا دنیا آئے دنیا سے کچھ کام نہیں جام اسی کو دے گا ساقی جس کو ساقی جانے ہے جام نہ دینے…

Read More