میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں
آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں
عکس تو خیر ہے شیشۂ ساعت ِ بے خبر میں کہیں
میری تنہائی بھی ہے مرا آئنہ، میں اکیلا نہیں
چاند بھی ہے مری صبح پُرنور کا منتظر شام سے
اے غنیمِ شب ِ ابتدا دیکھنا، میں اکیلا نہیں
یہ زمیں جس کی ہے، اس پہ میرے قدم رُکنے والے نہیں
وہ، مرے ساتھ ہے دُور تک راستہ، میں اکیلا نہیں
میرے اشعار ہی میرے ہم راز ہیں، میرے دم ساز ہیں
میرے اندر ہے کوئی ہنر آشنا، میں اکیلا نہیں
کوئی پہلو میں رہتے ہوئے بھی ہے مجھ سے جدا اِن دنوں
میرا سینہ سمندر ہے، دل ناخدا، میں اکیلا نہیں
