ٹوٹا جو کعبہ کون سی یہ جائے غم ہے شیخ کچھ قصرِ دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا
Read MoreMonth: 2021 فروری
آسی غازی پوری
وصل ہے پر دل میں اب تک ذوقِ غم پیچیدہ ہے بلبلا ہے عین دریا میں مگر نم دیدہ ہے
Read Moreانور سدید ۔۔۔ مرے ساتھ چلنے والو مجھے چھوڑ کر نہ جاو
مظفر حنفی ۔۔۔ ہاں بادِ صبا سچ ہے پریشاں رہے ہم
ہاں بادِ صبا سچ ہے پریشاں رہے ہم غنچوں کے بہر حال نگہبان رہے ہم شبنم نے کیا پاک تو کانٹوں نے سیے چاک ہر چند کہ مفلس کا گریبان رہے ہم سر تا بہ قدم زخم ہے اب کیسے بتائیں گلدان رہے ہم کہ نمکدان رہے ہم واللہ کہ بچنے کے لیے سر نہ جھکایا ناوک فگنی کے لیے آسان رہے ہم بسمل تھے مگر رقص کیا، رنگ اڑائے دنیا تِری تفریح کا سامان رہے ہم یہ کیا کہ جدھر دیکھیے خود ہی سے لڑے آنکھ اس آئنہ خانے…
Read Moreواجد امیر ۔۔۔ جانے کس کس کے ہیں ہم لوگ ہدف کیا دیکھیں
قاضی ظفر اقبال ۔۔۔ تا صبح آسماں پہ دھرا ہے دماغ شب
ایوب خاور ۔۔۔ ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا
محمد افتخار شفیع ۔۔۔ جدید ہوتے ہوئے کہنہ سال آدمی ہوں
گلزار ۔۔۔ صبح صبح اٹھتے ہی ۔۔۔۔۔
عامر سہیل ۔۔۔ اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا
اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا جس کی زد میں ہے پہاڑوں کا دھواں آیا ہوا یہ ترے عشق کی میقات، یہ ہونی کی ادا دھوپ کے شیشے میں اک خواب سا پھیلایا ہوا باندھ لیتے ہیں گرہ میں اسی منظر کی دھنک ہم نے مہمان کو کچھ دیر ہے ٹھہرایا ہوا طائرو ابر و ہوا بھی ہیں اسی الجھن میں کیسے دو ہونٹوں نے اک باغ ہے دہکایا ہوا چھید ہیں عمر کی پوشاک پہ تنہائی کے خوش نما قریوں میں ہوں آپ سے اکتایا ہوا رات آتی…
Read More