مظفر حنفی ۔۔۔ ہاں بادِ صبا سچ ہے پریشاں رہے ہم

ہاں بادِ صبا سچ ہے پریشاں رہے ہم غنچوں کے بہر حال نگہبان  رہے ہم شبنم نے کیا پاک تو کانٹوں نے سیے چاک ہر چند کہ مفلس کا گریبان رہے ہم سر تا بہ قدم زخم ہے اب کیسے بتائیں گلدان رہے ہم کہ نمکدان رہے ہم واللہ کہ بچنے کے لیے سر نہ جھکایا ناوک فگنی کے لیے آسان رہے ہم بسمل تھے مگر رقص کیا، رنگ اڑائے دنیا تِری تفریح کا سامان رہے ہم یہ کیا کہ جدھر دیکھیے خود ہی سے لڑے آنکھ اس آئنہ خانے…

Read More

ایوب خاور ۔۔۔ ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا

Read More

محمد افتخار شفیع ۔۔۔ جدید ہوتے ہوئے کہنہ سال آدمی ہوں

Read More

گلزار ۔۔۔ صبح صبح اٹھتے ہی ۔۔۔۔۔

Read More

عامر سہیل ۔۔۔ اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا

اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا جس کی زد میں ہے پہاڑوں کا دھواں آیا ہوا یہ ترے عشق کی میقات، یہ ہونی کی ادا دھوپ کے شیشے میں اک خواب سا پھیلایا ہوا باندھ لیتے ہیں گرہ میں اسی منظر کی دھنک ہم نے مہمان کو کچھ دیر ہے ٹھہرایا ہوا طائرو ابر و ہوا بھی ہیں اسی الجھن میں کیسے دو ہونٹوں نے اک باغ ہے دہکایا ہوا چھید ہیں عمر کی پوشاک پہ تنہائی کے خوش نما قریوں میں ہوں آپ سے اکتایا ہوا رات آتی…

Read More