نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ حسنین مظہری

یاد جس وقت در و بامِ حرم آتے ہیں کتنے ہی اشک پسِ دیدۂ نم آتے ہیں یہ مدینہ ہے شہِ ارض و سما کی بستی چین کرنے کو یہاں سوختہ دم آتے ہیں ہوگئے دیکھتے ہی حلقہ بہ گوشِ اسلام وہ جو ہاتھوں میں لیے تیغِ دو دم آتے ہیں جب بھی مشکل میں پکاروں کہ کوئی ہے میرا دفعتاً آتی ہے آواز کہ ہم آتے ہیں ماہ وخورشید شب و روز سرِ بامِ حرم بہرِ دیدارِ شہنشاہِ اُمم آتے ہیں ایک لمحے میں اتر جاتی ہے صدیوں کی…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ نظر کے زخم جِگر تک اُتر گئے ہوں گے

نظر کے زخم جِگر تک اُتر گئے ہوں گے تُو آئے گا تو دکھی لوگ مر گئے ہوں گے شکست خُوردہ و دامن بہ ریزہ آہ بلب ہم ایسے اہلِ وفا کام کر گئے ہوں گے وہ اِس گماں پہ کوئی تازہ زخم دے جاتے پُرانے زخم جِگر کے تو بھر گئے ہوں گے ہَوائیں تیز چلیں گی تو طاقِ جاں میں رہے حیات و موت کی چوکھٹ پہ ڈر گئے ہوں گے وہی ہے آج بھی میرے چمن کی وِیرانی زمانے بھر کے خرابے سنور گئے ہوں گے مِلا…

Read More

فرحت پروین ۔۔۔ تمھارے چار سو میں ہوں

’’کبوتر کے پروں پر لکھ کے جو پیغام بھیجا تھا ملا تم کو؟‘‘ ابھی تو رنگ بھرنے تھے بہت سے میں نے لفظوں میں بھلا بیٹھی جو عجلت میں سو تتلی کو روانہ کر دیا ہے اس تعاقب میں مگر پھر ناگہاں دل میں خیال آیا مرا سوزِ دروں شاید عیاں پھر بھی نہ ہو پائے تمہاری سمت اب محوِ سفر ہے ایک بلبل بھی مگر وہ ہوک جو رہ رہ کے اٹھتی ہے مرے دل سے تڑپ اس کی سما پائے گی کیا بلبل کے نغمے میں سو لازم…

Read More

آصفہ زمانی

تری یادوں نے تڑپایا بہت ہے بھلے ہی دل کو سمجھایا بہت ہے

Read More