کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
Read MoreCategory: آج کا شعر
شہریار
شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے
Read Moreبشیر بدر
بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا
Read Moreسجاد بلوچ
کہاں زمیں کے ضعیف زینے پہ چل رہی ہے یہ رات صدیوں سے میرے سینے پہ چل رہی ہے
Read Moreڈاکٹر خورشید رضوی
تھکے ہوئے در و دیوار ہیں نہ دو دستک کہ گر پڑے نہ کہیں گھرکا گھر بنایا ہوا
Read Moreپروین شاکر
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
Read Moreاختر عثمان
جب روح سے کہتے ہو کہ لبّیک حسینا ! پھر جی سے یزیدوں کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا ! کہتے ہو کہ ہو اُسوۂ شبّیر پہ قائم دربار میں کیوں جاتے ہو ، سَر کیوں نہیں جاتا !
Read Moreیوسف خالد
کوفہ مزاج لوگ کہاں جان پائیں گے جلتا دیا بجھا کے ہوا کون سرخرو کس کی عطا ہے دہر میں اب تک وفا پرست رہتے ہیں سر بلند ہی باطل کے روبرو
Read Moreاکمل حنیف
میں ہوا سبطِ محمدﷺ کے غلاموں کا غلام حوصلے اس لیے انکار میں آ جاتے ہیں
Read Moreعلی مطہر اشعر ۔۔۔
قتل گاہوں میں رعایت نہیں برتی جاتی کوئی اکبر ہے کہ اصغر، نہیں دیکها جاتا
Read More