بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read MoreCategory: د
خالد احمد
دم سادھ کے دیکھوں تجھے ، جھپکوں نہ پلک بھی آنکھوں میں سمولوں ، ترے لہجے کی دمک بھی
Read Moreخالد احمد
دیکھا نہ ہمیں توُ نے خط و خال سے آگے اک شہر تھا ، اس شہرِ مہ و سال سے آگے
Read Moreجلیل عالی
دیکھی نہیں ہے جس نے مری پاک سر زمیں وہ آشنائے عکسِ بہشتِ بریں نہیں
Read Moreخالد احمد
دکھ انگور کی بیلیں ہیں یہ بیلیں پھلنے دو سکھ کے پل بھی کھنچ آئیں گے ، سورج ڈھلنے دو
Read Moreرومی
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گردِ شہر کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست
Read Moreزیب غوری
دل ہے کہ تری یاد سے خالی نہیں رہتا شاید ہی کبھی میں نے تجھے یاد کیا ہو
Read Moreطفیل ہوشیار پوری
دل میں محبوب کا گھر ہو تو غزل ہوتی ہے کوئی مسجودِ نظر ہو تو غزل ہوتی ہے
Read Moreفانی بدایونی
دلِ مرحوم کو خدا بخشے ایک ہی غم گسار تھا، نہ رہا
Read Moreشہزاد احمد
دس بجے رات کو سو جاتے ہیں خبریں سن کر آنکھ کھلتی ہے تو اخبار طلب کرتے ہیں
Read More