دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
Read MoreCategory: د
قابل اجمیری
دن نکلتا ہے کس تمنا میں رات کس آسرے پہ آتی ہے
Read Moreعرش ملسیانی
دنیا میں تو ممنوع ہے جنت میں ہے جائز کیا بات ہے واعظ کی یہاں اور وہاں اور
Read Moreعزیز فیصل
دے رہے ہیں اس لیے جنگل میں دھرنا جانور ایک چوہے کو رہائش کے لیے بل چاہیئے
Read Moreمہتاب رائے تاباں
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
Read Moreوسیم بریلوی
دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا تم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreمرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read Moreخالد احمد
دم سادھ کے دیکھوں تجھے ، جھپکوں نہ پلک بھی آنکھوں میں سمولوں ، ترے لہجے کی دمک بھی
Read Moreخالد احمد
دیکھا نہ ہمیں توُ نے خط و خال سے آگے اک شہر تھا ، اس شہرِ مہ و سال سے آگے
Read More