محمد انیس انصاری ۔۔۔ دو غزلیں

میں حرف حرف ہوا ہوں گریز پائی سے تجھے کمال میسّر ہے آشنائی سے میں کب تلک یونہی لڑتار ہوں حقوق کی جنگ شکست کھائے چلا جائوں نارسائی سے رقابتوں کا یہ دیرینہ کھیل ختم بھی ہو کہ تھک گیا ہوں میں اس پنجہ آزمائی سے سمیٹ لوں میں ابھی ذات کی توانائی پھر ایک حشر اٹھے گا مری اکائی سے انیس! جھیل رہا ہوں مسافتوں کے عذاب کہ منزلیں ہیں عبارت شکستہ پائی سے ۔۔۔۔ پسِ مژگاں اذیّت سہہ رہا ہے سمندر قطرہ قطرہ بہہ رہا ہے دریچے میں…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ دو غزلیں

حل نہیں تھا کوئی ، احباب کی رائیں تھیں بہت اِک دِیا طاق میں تھا اور ہوائیں تھیں بہت زندگی ! کیسے مقابل تِرے آ سکتا تھا مَیں اکیلا تھا تِرے ساتھ بلائیں تھیں بہت بعض کو زہر ہی تریاق ہے ، جیسے کہ ہمیں عشق نے شانت کیا، ورنہ دوائیں تھیں بہت واں مِرے جبہ و دستار بھلا کیا کرتے محفلِ شوق میں رنگین قبائیں تھیں بہت دل کی بیماری ہی لاحق ہُوئی ، اچھا ہی ہُوا ورنہ تو اور بھی جاں لیوا وبائیں تھیں بہت جرمِ اُلفت میں…

Read More

ثمینہ سید ۔۔۔ نئی تراش نئے پیکروں میں ڈھلتے ہیں

نئی تراش نئے پیکروں میں ڈھلتے ہیں بہار رت میں شجر پیرہن بدلتے ہیں ڈرا نہ پائے گا یہ ہجر تیرگی سے ہمیں ہماری پلکوں پہ شب بھر چراغ جلتے ہیں رہِ سفر میں کوئی ہم سفر نہیں، لیکن میں مطمئن ہُوں کہ چھا لے تو ساتھ چلتے ہیں مقام ملتا نہیں ہے صعوبتوں کے بغیر مجھے خبر ہے کئی لوگ ہاتھ ملتے ہیں ہمیشہ فکر ستاتی ہے دشمنوں کو اب کہاں پہ گرتے ہیں اور ہم کہاں سنبھلتے ہیں مگر ہمیشہ انہیں مسکرا کے ملتی ہُوں مجھے خبر ہے…

Read More

عقیدت ۔۔۔ آصف ثاقب

میری آنکھوں میں منّور خانہ کعبہ اور اشکوں کا ہے محور خانہ کعبہ اس کے ارماں ہی مرے دل میں بسے ہیں یاد رکھتے ہیں وہ اکثر خانہ کعبہ اس سے ایماں کی خبر سب کے لیے ہے اس کو جانو ہے مبشر خانہ کعبہ دیکھنے کی یہ تمنا جو مری ہے مجھ سا پائے گا قلندر خانہ کعبہ خانہ کعبہ ہے سہارا ، میرا ثاقب ہر قدم پر ہے مظفر خانہ کعبہ

Read More

اکرم سحر فارانی ۔۔۔ دو غزلیں

ہوتا ہے کام یُوں بھی وفا کے نصاب پر آنکھیں کسی کی راہ میں، اُنگلی کتاب پر یہ بھی تو ایک رنگ ہے عہدِ شباب کا کرتی ہیں رقص خواہشیں دل کے رباب پر فیشن میں ڈھل گئی ہے نمائش وجود کی اُٹھنے لگی ہیں اُنگلیاں سادہ نقاب پر مانا وہ بے وفا ہے مگر اِس کے باوجود کرتے ہیں لوگ رشک مرے انتخاب پر سینچے گا کس طرح وہ محبت کا گُلستاں جس نے وفا کا ڈیم بنایا سراب پر ایسے میں خامشی ہی مناسب جواب ہے جب سینکڑوں…

Read More

افروز رضوی ۔۔۔ تیری میری اُڑان دیکھے گی

تیری میری اُڑان دیکھے گی جب زمیں آسمان دیکھے گی تیری موجِ تباہ کن میری قوتِ بادبان دیکھے گی آ نکھ اُٹھا کر زمین بھی اک دن بارشِ آسمان دیکھے گی تیری راہِ طلب میں بن کے غبار خاک اپنی اُڑان دیکھے گی وحشتِ دل فراق میں تیرے کمرئہ امتحان دیکھے گی جب اٹھے گی گھٹا دل و جاں سے دھوپ پھر سائبان دیکھے گی

Read More

شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم

نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں سفرمیلوں یہ کرتی ہے کبھی گلزار بن جائے کبھی یہ نوح کی کشتی کبھی گمنام ہو جائے کبھی ہر رنگ کو پکڑے محبت موم جیسی ہے یہ حدت سے پگھلتی ہے کبھی محفل میں سجتی ہے کبھی صحرا بھٹکتی ہے کبھی بس ایک خواہش میں یہ خود پہ جبر کرتی ہے محبت سات رنگوں کی کوئی تشہیر ہو جیسے محبت راگ ہو جیسے محبت وصل کی خواہش محبت دل نشیں تعبیر جیسی ہے محبت…

Read More