جتنا بھی پیار ، فیس بُک پر ہی یار دل دار ، فیس بُک پر ہی قول اقرار ، فیس بُک پر ہی سارے اظہار ، فیس بُک پر ہی سچ تو یہ ہے کہ مرنے والوں کا اب ہے دیدار ، فیس بُک پر ہی ہو محبت کا ، یا کہ نفرت کا اب تو اظہار ، فیس بُک پر ہی ویسے تو ملنا کب نصیبوں میں آنکھیں بھی چار فیس بُک پر ہی پگڑیاں بھی اچھلتی دیکھیں یاں عزتیں تار فیس بُک پر ہی وقت پڑنے پہ وا…
Read MoreTag: اردو شاعری
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بیقرار کیا
جوش ملیح آبادی کی یہ غزل ایک ایسے عاشقِ دلنواز کا آئینہ ہے جس نے وعدوں پر یقین، صبر پر سوال، اور بےقرار انتظار کو عبادت کی صورت اختیار کیا اور ہر تڑپ کو خالص محبت کا اظہار جانا۔
Read Moreحیدر بخاری ۔۔۔ آپ اک بار مرے گاؤں میں گر آجائیں
آپ اک بار مرے گاؤں میں گر آجائیں جتنے ہیں بانجھ شجر سب پہ ثمر آ جائیں تم نے اک بار بلایا ہی نہیں ہے ورنہ ہم تو اک بار بلانے پہ ہی گھر آ جائیں سر ہتھیلی پہ لیے پھرتے ہیں ہم اس دن سے تم نے جس دن یہ پکارا تھا کہ سر ! آجائیں پہلا دن جامعہ کا خالی نہ تھی کوئی نشست پھر کسی نے یوں بلایا تھا : ادھر آجائیں
Read Moreاکرم جاذب ۔۔۔ یہ مانتا نہیں کہ محبت نہیں ہوئی
یہ مانتا نہیں کہ محبت نہیں ہوئی شاید اسے نصیب فراغت نہیں ہوئی مصرع سمجھ کے میں نے اٹھا تو لیا اسے مشکل زمین تھی سو ریاضت نہیں ہوئی مقصود دست ِ یار پہ طعنہ زنی نہیں کیوں ایک زخم پر ہی قناعت نہیں ہوئی ایسا بھی کوئی اجنبی ملنا محال ہے خود سے ملا ہوں اور مجھے وحشت نہیں ہوئی ہنستے رہے ہیں دامن ِ صد چاک پر رفیق محسوس ہی رفو کی ضرورت نہیں ہوئی لائیں کوئی ثبوت ِ اطاعت ہی سامنے کہتے جو ہو جہاں سے بغاوت…
Read Moreآصف ثاقب ۔۔۔ فلک پہ ہے نظارا روشنی کا
فلک پہ ہے نظارا روشنی کا چمک اُٹھا ستارا روشنی کا لہو اپنا رواں اس میں کیا ہے تعلّق ہے ہمارا روشنی کا بڑھایا ہم نے دل کا نور ایسا اُدھر پانی اتارا روشنی کا جھلکتی ہے تو چھپ جاتی ہے پہلے یہ کیسا ہے اشارہ روشنی کا نگاہوں میں اجالا کر رہا ہے بہت اونچا منارہ روشنی کا پڑھوں تو نظم بن جاتا ہے ثاقب ہر آنسو ہے شمارہ روشنی کا
Read Moreمیتھیو محسن ۔۔۔ نہ جانے کیوں ہے یہ دل بے قرار کیا کہیے
نہ جانے کیوں ہے یہ دل بے قرار کیا کہیے خوشی ہی راس نہ غم ساز گار کیا کہیے تمام رات ستاروں نے خون چھڑکا ہے کیا ہے کیسے ترا انتظار کیا کہیے ہر ایک یاد سے زخموں کے پھول کھلتے ہیں تباہ دل کے چمن کی بہار کیا کہیے ہجومِ جلوۂ رنگیں میں کھو گئی ہے نظر بہارِ حسن کا دل کش نکھار کیا کہیے یہ کس مقام پہ چھوڑا ہے زیست نے محسن نہ کوئی غم نہ کوئی غم گسار کیا کہیے
Read Moreمحمد انیس انصاری ۔۔۔ جِس سے ہر شخص ہے بیزار ، بدل ڈالیں گے
جِس سے ہر شخص ہے بیزار ، بدل ڈالیں گے ہم سیاست کا یہ معیار بدل ڈالیں گے جس نے لُوٹا ہے مرے دیس کی مٹّی کا سہاگ اِس کہانی سے وہ کردار بدل ڈالیں گے تو نے سینچا ہے جسے اپنے لہو سے برسوں یہ تو پل بھر میں وہ گلزار بدل ڈالیں گے میں نہ کہتا تھا کہ یہ لوگ تو سوداگر ہیں ترے اجداد کی اقدار بدل ڈالیں گے سُن اے نیلام گھروں تک ہمیں لانے والے! ہم ترا مصر کا بازار بدل ڈالیں گے ہم نے…
Read Moreخالق آرزو ۔۔۔ عمر بھر ایک شرر یاد آیا
عمر بھر ایک شرر یاد آیا ایک جلتا ہوا گھر یاد آیا ہر طرف خاک مرے اُڑنے لگی جب بھی وہ دشت وہ سر یاد آیا میں کہاں اس کو بھلا بھول سکا ہاں تکلف سے مگر یاد آیا جب بھی آیا مجھے دنیا کا خیال ایک ممنوعہ شجر یاد آیا سن کے ہوتا ہے تعجب مجھ کو آرزو آپ کو گھر یاد آیا
Read Moreمحمد یوسف ۔۔۔ جس کو چاہا کبھی مِلا تو نہیں
جس کو چاہا کبھی مِلا تو نہیں زندگی یہ تِری سزا تو نہیں جانے کِس موڑ پر بچھڑ جائے ہم سفر نے ابھی کہا تو نہیں ہم مسافر ہیں ، آخرِ شب کے چل پڑیں ، کب ، کہیں ، پتا تو نہیں کوئی ویران کر گیا ہے شہر لوگ کہتے ہیں کچھ ہوا تو نہیں یہ مِرا گھر ہے یا کوئی صحرا پھول آنگن کوئی کِھلا تو نہیں وہ جو کب کا بچھڑ گیا یوسف شہرِ جاں سے ابھی گیا تو نہیں ۔۔۔۔ شور ایسا مری بستی کی فضا…
Read Moreنبیل احمد نبیل ۔۔۔ دو غزلیں
ایک لمحہ ہے ترے حُسنِ نظر کا جاگنا عشق ہے لیکن مسلسل عمر بھر کا جاگنا زندگی کے چاک پر گردِش کو رکھتا ہے رواں کُوزہ گر کے ہاتھ میں شوقِ ہنر کا جاگنا بنتا جاتا ہے تلاشِ آب و دانہ کا سبب صبح سے پہلے ہر اِک شاخِ شجر کا جاگنا کر گیا مجھ کو نئی سمتوں کی حیرانی میں گم منزلِ گم گشتہ سے عزمِ سفر کا جاگنا پھر کوئی پُرنم اُداسی دے گیا مجھ کو نبیل صفحۂ دل پر کسی رنگِ اثر کا جاگنا ۔۔۔۔۔ زندگی یوں…
Read More