بشر نواز

جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر میرا

Read More

بسمل صابری ۔۔۔ سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا

سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ کو گھیر لیا مرے لبوں پہ ابھی نام تھا بہاروں کا ہجومِ شوق میں خاروں نے مجھ کو گھیر لیا کبھی جنوں کے زمانے، کبھی فراق رتیں کہاں کہاں تری یادوں نے مجھ کو گھیر لیا نکل کے آ تو گیا گہرے پانیوں سے، مگر کئی طرح کے سرابوں نے مجھ کو گھیر لیا یہ جی میں تھا کہ نکل جاؤں تجھ سے دور کہیں کہ تیرے دھیان کی بانہوں نے مجھ کو گھیر…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم

اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی پھر جاتی ہے دکھ کا شب خوں روز اُدھورا رہ جاتا ہے اور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہے میں اور میرا شہرِ محبت تاریکی کی چادر اوڑھے روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں حدِ سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سے اپنی روئے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیں انگشتا نے اک اک کر کے چھلنی ہونے کو آئے اب…

Read More

فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ

اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے والے ہو اور اچھی قسمت رکھتے ہو بچے کی سی بھولی صورت اب تک ضد کرنے کی عادت کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں کچھ سینے میں چبھتی یادیں اب انھیں بھلا دو، سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو سو جاؤ تم شہزادے ہو اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو اچھا تو کوئی اور بھی تھی اچھا پھر بات کہاں نکلی کچھ اور بھی یادیں بچپن کی کچھ اپنے گھر کے…

Read More