گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے
Read MoreTag: اردو ادب
صفی لکھنوی
وہ اور کچھ نہ سہی لطفِ انتظار تو ہے کہ غیر کو ترے وعدے کا اعتبار تو ہے
Read Moreاقبال عظیم
روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں
Read Moreاسلم کولسری
قریب آ کے بھی اک شخص ہو سکا نہ مرا یہی ہے میری حقیقت یہی فسانہ مرا
Read Moreبشر نواز
جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر میرا
Read Moreروش صدیقی
رنگ اس محفلِ تمکیں میں جمایا نہ گیا خامشی سے بھی مرا حال سنایا نہ گیا
Read Moreناظم علی خان ہجر
اے ہجر وقت ٹل نہیں سکتا ہے موت کا لیکن یہ دیکھنا ہے کہ مٹی کہاں کی ہے
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا
سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ کو گھیر لیا مرے لبوں پہ ابھی نام تھا بہاروں کا ہجومِ شوق میں خاروں نے مجھ کو گھیر لیا کبھی جنوں کے زمانے، کبھی فراق رتیں کہاں کہاں تری یادوں نے مجھ کو گھیر لیا نکل کے آ تو گیا گہرے پانیوں سے، مگر کئی طرح کے سرابوں نے مجھ کو گھیر لیا یہ جی میں تھا کہ نکل جاؤں تجھ سے دور کہیں کہ تیرے دھیان کی بانہوں نے مجھ کو گھیر…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی پھر جاتی ہے دکھ کا شب خوں روز اُدھورا رہ جاتا ہے اور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہے میں اور میرا شہرِ محبت تاریکی کی چادر اوڑھے روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں حدِ سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سے اپنی روئے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیں انگشتا نے اک اک کر کے چھلنی ہونے کو آئے اب…
Read Moreفہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے والے ہو اور اچھی قسمت رکھتے ہو بچے کی سی بھولی صورت اب تک ضد کرنے کی عادت کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں کچھ سینے میں چبھتی یادیں اب انھیں بھلا دو، سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو سو جاؤ تم شہزادے ہو اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو اچھا تو کوئی اور بھی تھی اچھا پھر بات کہاں نکلی کچھ اور بھی یادیں بچپن کی کچھ اپنے گھر کے…
Read More