خدا نے اپنے تئیں روشنی اُتاری تھی کہ آدمی نے اندھیرا تو خود اتارا ہے
Read MoreTag: اردو
قتیل شفائی
کیا عشق تھا جو باعثِ رسوائی بن گیا یارو تمام شہر تماشائی بن گیا
Read Moreعدیم ہاشمی
جس راہ پر پڑے تھے ترے پاؤں کے نشاں اس راہ سے کسی کو گزرنے نہیں دیا
Read Moreعلی سردار جعفری
مقتلِ شوق کے آداب نرالے ہیں بہت دل بھی قاتل کو دیا کرتے ہیں سر سے پہلے
Read Moreصفی لکھنوی
وہ اور کچھ نہ سہی لطفِ انتظار تو ہے کہ غیر کو ترے وعدے کا اعتبار تو ہے
Read Moreاسلم کولسری
قریب آ کے بھی اک شخص ہو سکا نہ مرا یہی ہے میری حقیقت یہی فسانہ مرا
Read Moreبشر نواز
جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر میرا
Read Moreروش صدیقی
رنگ اس محفلِ تمکیں میں جمایا نہ گیا خامشی سے بھی مرا حال سنایا نہ گیا
Read Moreناظم علی خان ہجر
اے ہجر وقت ٹل نہیں سکتا ہے موت کا لیکن یہ دیکھنا ہے کہ مٹی کہاں کی ہے
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا
سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ کو گھیر لیا مرے لبوں پہ ابھی نام تھا بہاروں کا ہجومِ شوق میں خاروں نے مجھ کو گھیر لیا کبھی جنوں کے زمانے، کبھی فراق رتیں کہاں کہاں تری یادوں نے مجھ کو گھیر لیا نکل کے آ تو گیا گہرے پانیوں سے، مگر کئی طرح کے سرابوں نے مجھ کو گھیر لیا یہ جی میں تھا کہ نکل جاؤں تجھ سے دور کہیں کہ تیرے دھیان کی بانہوں نے مجھ کو گھیر…
Read More