مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش یعنی اضداد ہیں پروردۂ یک ذات اے جوش مست و بیگانہ گزر جا کرۂ خاکی سے یہ تو ہے رہ گزرِ سیلِ خیالات اے جوش اور تو اور خود انسان بہا جاتا ہے کتنا پر ہول ہے طوفانِ روایات اے جوش لوگ کہتے ہیں حجابات نہیں جز آیات کس سے کہئے کہ یہ آیات ہیں خود ذات اے جوش اہلِ الفاظ شریعت پہ مٹے جاتے ہیں کس کو سمجھاؤں مشیت کے اشارات اے جوش دیکھیے صبحِ جنوں ذہن میں…
Read MoreTag: اردو
تابش مہدی ۔۔۔ جہانِ دل میں سناٹا بہت ہے
جہانِ دل میں سناٹا بہت ہے سمندر آج کل پیاسا بہت ہے یہ مانا وہ شجر سوکھا بہت ہے مگر اس میں ابھی سایا بہت ہے فرشتوں میں بھی جس کے تذکرے ہیں وہ تیرے شہر میں رسوا بہت ہے بہ ظاہر پر سکوں ہے ساری بستی مگر اندر سے ہنگاما بہت ہے اسے اب بھول جانا چاہتا ہوں کبھی میں نے جسے چاہا بہت ہے وہ پتھر کیا کسی کے کام آتا مگر سب نے اسے پوجا بہت ہے مرا گھر تو اجڑ جائے گا لیکن تمہارے گھر کو…
Read Moreجلی امروہی ۔۔۔ نفس ﺳﮯ ﺟﻮ ﻟﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
نفس ﺳﮯ ﺟﻮ ﻟﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﻭﺡ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺟﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﭘﮭﺮ ﻓﺴﺎﺩ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﻑِ ﺧﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﮨﻞِ ﺩﻝ ﺍﮨﻞِ ﻇﺮﻑ ﺍﮨﻞِ ﻧﻈﺮ ﺑﺎﺕ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺟﯿﻨﺎ ﻋﺒﺚ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺑﺰﻡِ ﻋﺸﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻘﺎﻥِ ﻃﺮﺏ ﻧﺎﻟۂ ﺩﻝ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﺭﺱ ﻟﻮ ﭨﻮﭨﺘﮯ ﺣﺒﺎﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﮮ ﺟﻠﯽ ﺩﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ…
Read Moreاختر عثمان ۔۔۔ فاقہ ہے بہت دِن سے بہت پیاس ہے عبّاس !
فاقہ ہے بہت دِن سے بہت پیاس ہے عبّاس ! لوٹ آؤ ، سکینہ کو ابھی آس ہے عبّاس ! عبّاس جو آتے تھے تو خوش ہوتی تھیں زینب فرماتی تھیں : کیا غم ہے اگر پاس ہے عبّاس وہ ایسا جَری ہے کہ وفا ختم ہے اُس پر دِل کے لئے ایمان کا احساس ہے عبّاس کیا کیا صِفَتیں اِس میں ہیں ، شبّیر سے پوچھو حیدر ہے، علَم دار ہے، عبّاس ہے عبّاس !! زہرا کی دعا ہے تو علی کا ہے وہ مقصود جو صرف علی کا…
Read Moreسلام بحضور امامِ عالی مقام ۔۔۔ شکیل جاذب
سلام بحضور امامِ عالی مقام بس کُشتگانِ راہِ ابد گیر کر گئے دشتِ بلا کی خاک کو اکسیر کر گئے صدیوں سے جس کی ہمّتِ انساں تھی منتظر وہ کام حق کی راہ میں شبّیر کر گئے اک خیمۂ جمال کے بجھتے ہوئے چراغ راہِ وفا میں روشنی تحریر کر گئے عبّاس اپنے بازو کٹا کر لبِ فُرات باطل کے دستِ ظلم کو زنجیر کر گئے جو تیر کربلا میں چلے تھے حُسین پر دراصل مُصطفےٰ (ص) کا جگر چیر کر گئے آنکھوں میں اشک چاک گریباں سروں پہ خاک…
Read Moreغلام محمد قاصر ۔۔۔ کچھ ایسی بات محرم کا چاند کہتا ہے
کچھ ایسی بات محرم کا چاند کہتا ہے کہ سال بھر مرا دل کربلا میں رہتا ہے چلیں نشیب کو دریا مگر تمھارے لیے فراتِ اشک بُلندی کی سمت بہتا ہے اک استعارۂ ہجرت ہے روشنی کی طرف جہاں کہیں بھی پرندہ سفر میں رہتا ہے کہ داستانِ عروج و زوالِ ملّت میں وہی تو سچ ہے جو حصّہ حُسینٌ کہتا ہے
Read Moreنسیم امروہوی
حیدر سا بہادر کوئی ہوگا نہ ہوا ہے ہاں حضرتِ عباس کو کہیے تو بجا ہے ان کو بھی وہی زور وہی رعب ملا ہے یہ ایک شرف شیرِ خدا سے بھی سوا ہے سقّائی کا عہدہ تو علی کو نہ ملا تھا لیکن کوئی سقّا کہیں پیاسا نہ سنا تھا
Read Moreحفیظ تائب ۔۔۔ حسین ابنِ علی کو امام جانتا ہوں
رموزِ عشق و محبّت تمام جانتا ہوں حسین ابنِ علی کو امام جانتا ہوں انھی کے در کو سمجھتا ہوں محورِ مقصود انھی کے گھر کو میں دارالسّلام جانتا ہوں میں ان کی راہ کا ہوں ایک ذرۂ ناچیز کہوں یہ کیسے کہ ان کا مقام جانتا ہوں مجھے امام نے سمجھائے ہیں نکاتِ حیات سوادِ کفر میں جینا حرام جانتا ہوں نگاہ کیوں ہے مری ظاہری وسائل پر جو خود کو آلِ نبی کا غلام جانتا ہوں میں جان و مال کو پھر کیوں عزیز رکھتا ہوں جو خود…
Read Moreوصی حسن نقاش ۔۔۔ غمِ حسین میں قد سے بڑے نظر آئیں
پڑے ہوں فرش پہ لیکن کھڑے نظر آئیں غمِ حسین میں قد سے بڑے نظر آئیں اسی لئے تو عزادار بھی ہیں مثلِ نگیں جہاں بھی مجلسِ شہ ہو جڑے نظر آ ئیں سمجھ یہ لینا کہ اپنی حیات باقی ہے درِ حسین پہ جب تک پڑے نظر آئیں نظر میں ڈھال لو اس طرح کربلا کا وجود عدو جو دیکھیں تو تیور کڑے نظر آئیں اسی لئے تو میں ذکرِ حسین کرتا ہوں کوئ ہنر تو ہو جس میں بڑے نظر آئیں جہاں بشر کے قوانین درج ہیں نقاش…
Read Moreکامی شاہ ۔۔۔ چشمِ نم کو دیکھیے، دل کے غم کو دیکھیے
چشمِ نم کو دیکھیے، دل کے غم کو دیکھیے جائیے ہم کو جانیے، جائیے ہم کو دیکھیے پچھلے قدم کی دھول کو جھاڑ کے آگے آئیے رستے کے ساتھ بھاگتے اگلے قدم کو دیکھیے خیموں میں اک چراغ بھی جلنے نہیں دیا گیا شہرِ ستم کی شام میں اہلِ ستم کو دیکھیے کچھ بھی نہ اور دیکھیے تیغ و تبر کے باب میں دیکھیے بس حسینؑ کے رنج و الم کو دیکھیے ہم کو امامِ صبر نے ایک یہی سبق دیا اُس کی رضا کو دیکھیے، اُس کے کرم کو…
Read More