علامہ اقبال ۔۔۔ گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر تو ہے محیطِ بیکراں میں ہوں ذرا سی آب جو یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو میں ہوں خذف تو تو مجھے گوہرِ شاہوار کر نغمۂ نوبہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو اس دمِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر…

Read More

شاد عظیم آبادی ۔۔۔ ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم ہو جائے بکھیڑا پاک کہیں پاس اپنے بلا لیں بہتر ہے اب دردِ جدائی سے ان کی اے آہ بہت بیتاب ہیں ہم اے شوق بُرا اس وہم کا ہو مکتوب تمام اپنا نہ ہوا واں چہرہ پہ ان کے خط نکلا یاں بھولے…

Read More

ناصر کاظمی ۔۔۔ اپنی دھن میں رہتا ہوں

اپنی دھن میں رہتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں او پچھلی رت کے ساتھی! اب کے برس میں تنہا ہوں تیری گلی میں سارا دن دُکھ کے کنکر چنتا ہوں مجھ سے آنکھ ملائے کون میں تیرا آئینہ ہوں میرا دیا جلائے کون میں ترا خالی کمرہ ہوں تیرے سوا مجھے پہنے کون میں ترے تن کا کپڑا ہوں تو جیون کی بھری گلی میں جنگل کا رستہ ہوں آتی رُت مجھے روئے گی جاتی رُت کا جھونکا ہوں اپنی لہر ہے اپنا روگ دریا ہوں اور پیاسا ہوں

Read More

عندلیب شادانی ۔۔۔ دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے دامن ہاتھ میں آئے تو چاہت کے بدلے میں ہم تو بیچ دیں اپنی مرضی تک کوئی ملے تو دل کا گاہک کوئی ہمیں اپنائے تو کیوں یہ مہر انگیز تبسم مدِ نظر جب کچھ بھی نہیں ہائے کوئی انجان اگر اس دھوکے میں آ جائے تو سنی سنائی بات نہیں یہ…

Read More

جون ایلیا ۔۔۔ نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا، اخلاص، قربانی، محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم سنا دیں عصمتِ مریم کا قصہ پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم تمھاری ہی تمنا کیوں…

Read More

ناظم علی خان ہجر

شبِ فراق کچھ ایسا خیالِ یار رہا کہ رات بھر دلِ غم دیدہ بے قرار رہا

Read More

ناظم علی خان ہجر

کہے گی حشر کے دن اس کی رحمتِ بے حد کہ بے گناہ سے اچھا گناہ گار رہا

Read More

ناظم علی خان ہجر

ہاں ہاں تمہارے حسن کی کوئی خطا نہیں میں حسنِ اتفاق سے دیوانہ ہو گیا

Read More

فراغ روہوی

مجھ میں ہے یہی عیب کہ اوروں کی طرح میں چہرے پہ کبھی دوسرا چہرا نہیں رکھتا

Read More

صفی لکھنوی

کہاں تک تھی خوشی کے ساتھ وابستگی غم کی ذرا شیرازہ بندی دیکھیۓ اجزاۓ عالم کی

Read More