تنویر نقوی ۔۔۔ آپ بیتی

آپ بیتی۔۔۔۔۔من کی بات کہی نہ جائےمن کی بات کہی نہ جائے من کا بھید کہوں کیا اُن سے!لب تک آ کر، رہ جاتا ہےاُن سے جو شکوہ ہے مجھ کواشکوں میں ہی بہہ جاتا ہے کون ہے مجھ کو جوسمجھائےمن کی بات کہی نہ جائے کیوں کر بولوں اُن سے سجنیکیسی گزریں میری راتیںکتنا پھیکا ساون بیتا!کتنی سونی تھیں برساتیں نینن دکھ کے نیر بہائےمن کی بات کہی نہ جائے اک پل چین نہ پائوں اُن بِنیاد آتے ہیں جاگتے سوتےدن بیتے ہے آہیں بھرتےرات کٹے ہے، روتے روتے…

Read More

نئی صبح ۔۔۔۔ اختر الایمان

نئی صبح ۔۔۔۔۔۔۔ کالے ساگر کی موجوں میں ڈوب گئیں دھندلی آشائیں جلنے دو یہ دیے پرانے خود ہی ٹھنڈے ہو جائیں گے بہہ جائیں گے آنسو بن کر روتے روتے سو جائیں گے اندھے سایوں میں پلتے ہیں مبہم سے غمگین فسانے دکھ کی اک دیوار سے آ کر ٹکرا جاتے ہیں پروانے دورِ فسردہ کی انگڑائی    لَے بن بن کر ٹوٹ رہی ہے سرخ زباں کی نازک لَو پر جاگ رہی ہے ایک کہانی ٹوٹے پھوٹے جام پڑے ہیں سوئی سوئی ہے کچھ محفل دھوپ سی ڈھل…

Read More

بانی ۔۔۔۔ اک دھواں ہلکا ہلکا سا پھیلا ہوا ہے اُفق تا اُفق

اک دھواں ہلکا ہلکا سا پھیلا ہوا ہے اُفق تا اُفق ہر گھڑی اک سماں ڈوبتی شام کا ہے اُفق تا اُفق کس کے دل سے اڑیں ہیں سلگتے ہوئے غم کی چنگاریاں دوستو! شب گئے یہ اجالا سا کیا ہے اُفق تا اُفق ہجر تو روح کا ایک موسم سا ہے جانے کب آئے گا سرد تنہائیوں کا عجب سلسلہ ہے اُفق تا اُفق سینکڑوں وحشتیں چیختی پھر رہی تھیں کراں تا کراں آسماں نیلی چادر سی تانے پڑا ہے اُفق تا اُفق روتے روتے کوئی تھک کے چپ…

Read More