اپنی آوازوں کو چپ رہ کر سنا تب کہیں جا کر یہ ز یر و بم بنے
Read MoreTag: شاہین عباس کی نظم
شاہین عباس ۔۔۔ اے تصویر انسان
اے تصویر انسان (۱) کوئی کوئی دن سمے کی دھار پہ ایسا بھی آ جاتا ہے اچھی بھلی نبضوں پر چلتی گھڑ یاں کام نہیں کرتیں کبھی کبھی کا جھونکا سا دن کئی کئی دن چلتا ہے سِن اندرسِن سال اندرسال قرنوں اندر قرن الٹتا قرن پلٹتا بارہ گھنٹوں کے چکر میں ، چلتا اور چکراتا گولا جسم ہیولوں سا اک چولا دانہ چگتا دن ، جب گنبد گنبد چکر کاٹتا ہے ، تو جیسے دنیا کے نقشے پر گندم کی سب بالیاں گھیرے میں لے لیتا ہے دن جیسے…
Read Moreشاہین عباس
تم نے کیا بات کاٹ دی تھی مری گھر میں آتا رہا گلی کا شور
Read Moreشاہین عباس
یہ جو ہم کچھ کہتے کہتے کچھ بھی کہ پاتے نہیں زندگی شاید اِسی پیغمبری کا نام ہے
Read Moreشاہین عباس
گم شدہ شخص تھا سو میں پایا گیا وہیں کہیں خواب کی لو جہاں پڑی، خاک کا رخ جدھر ہوا
Read Moreشاہین عباس
میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوں تیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کو ئی
Read Moreشاہین عباس
لوگ گلی گلی سے اب، پوچھ رہے ہیں ، کیا ہوا پکڑا گیا تھا ، کیا کروں ، شوق تھا یہ گڑھا بھروں
Read Moreشاہین عباس
کچھ اضافہ کیا ہے کچھ ترمیم خود کو اک واقعہ بنا دیا ہے
Read More