احمد فراز

ہر خواب عذاب ہو چکا ہے اور تو بھی تو خواب ہو چکا ہے

Read More

احمد فراز … برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سااب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا ابرو کھچے کھچے سے، آنکھيں جھکی جھکی سیباتيں رکی رکی سی، لہجہ تھکا تھکا سا الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھےبن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا خوابوں ميں خواب اُس کے، يادوں ميں ياد اُس کینيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے کہ رتجگا سا پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميںوہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديںتازہ…

Read More

احمد فراز ۔۔۔ راتیں ہیں اُداس، دن کڑے ہیں

Read More

یہ میری غزلیں، یہ میری نظمیں ۔۔۔۔ احمد فراز

یہ میری غزلیں، یہ میری نظمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میری غزلیں، یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں یہ شعر تیری شکایتیں ہیں میں سب تری نذر کر رہا ہوں یہ اُن زمانوں کی ساعتیں ہیں جو زندگی کے نئے سفر میں تجھے کسی وقت یاد آئیں تو ایک اک حرف جی اُٹھے گا پہن کے انفاس کی قبائیں اُداس تنہائیوں کے لمحوں میں ناچ اُٹھیں گی اپسرائیں مجھے ترے درد کے علاوہ بھی اور دکھ تھے یہ مانتا ہوں ہزار غم تھے جو زندگی…

Read More