کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی تشنگی پھر بھی کم نہیں ہوتی اتنا ارزاں لہو ہے آدم کا کوئی بھی آنکھ نم نہیں ہوتی راہِ ہستی بڑی کٹھن ہی سہی چاہ جینے کی کم نہیں ہوتی میں ہی عادی سا ہو گیا یا پھر بے رُخی کچھ ستم نہیں ہوتی سبھی کچھ ہے روا سیاست میں اس میں کوئی قسم نہیں ہوتی کون سی بات ہے مری محسن جو کسی جا رقم نہیں ہوتی
Read MoreTag: caarwan
شاہد فرید ۔۔۔ کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے
کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے جِس اُور بڑھا ہوں میں ، وہ در کھلتا گیا ہے یوں گھورتے ہیں مجھ کو ترے شہر کے باسی جیسے کہ محبت نہیں کی ، جرم کیا ہے میں جال میں الجھا ہوا تھا اور اچانک صیاد مرے پاؤں میں خود آن گرا ہے یہ عشق ‘ محبت تو ہے ایمان کا حصہ شک ذہن میں در آیا ، مرا جرم بڑا ہے آہٹ کوئی محسوس ہوئی ہے سرِ دہلیز دستک کی ضرورت نہیں ‘ دروازہ کُھلا ہے میں کچھ بھی…
Read Moreخالد احمد
دستِ ہَوا سے پرتوِ ادراک ہو گئے بادل بکھر کے دامنِ صَد چاک ہو گئے
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے
نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے گماں سرشت زمانہ ہی سارا ایسا ہے میں جانتا ہوں کہ ہم تم ہیں اک فسانۂ خواب ہمارے نام یہی استعارہ ایسا ہے نہ کیوں ہو جلوۂ حیرت مری نگاہ کا رنگ کئی دنوں سے اُفق کا کنارہ ایسا ہے ارادے ٹوٹتے جاتے ہیں ایک اک کرکے کہ اب کے برجِ فلک میں ستارہ ایسا ہے چلو نکل چلیں خوشبو رسیدہ لمحوں میں سحر کا دامنِ گل پارہ پارہ ایسا ہے وجودِ زندہ ہے یہ دل، کوئی فسانہ نہیں یہ اور بات مقدر…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ زادۂ ہجر پر ہزار دامنِ دل کشادہ تھا
زادۂ ہجر پر ہزار دامنِ دل کشادہ تھا رات بہت طویل تھی، درد بہت زیادہ تھا دونوں کی ایک قدر تھی اور تھی مشترک بہت حُسن بھی خود نہاد تھا، عشق بھی بے ارادہ تھا ایک لباسِ مفلسی، ایک فریبِ دل لگی ایک تھا میرا پیرہن، ایک ترا لبادہ تھا وقت کی اپنی چال تھی اور مجھے خبر نہ تھی رات کی منزل اور تھی، صبح کا اور جادہ تھا ایک جنونِ خام تھا، ایک سرابِ ناتمام رخشِ ہوا پہ تم سوار اور میں پا پیادہ تھا تیرا جمالِ کم…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ تجھ سے خوشی ملی نہ غم، تجھ سے گلہ؟ نہیں نہیں!
تجھ سے خوشی ملی نہ غم، تجھ سے گلہ؟ نہیں نہیں! تُو تو ادا شناس ہے، تیری خطا؟ نہیں نہیں! میرے سخن سے کب ہوئیں تیری جفائیں عکس ریز آئنہ خود ہی بول اُٹھا، میں نے کہا؟ نہیں نہیں! میں ہوں کہاں اَنا پرست ، عجز مری سرشت ہے مجھ سے بھی ہو گیا خفا میرا خدا؟ نہیں نہیں! تیز ہَوا کا شور و شر میری سماعتوں میں تھا کاٹ گئی مرا بدن تیری صدا؟ نہیں نہیں! ساعتِ جاں ہے منجمد رات کے سرد طاق میں اور رہے گی صبح…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ حضورِ شاہ چلیں گے، صدا کریں گے ہم
حضورِ شاہ چلیں گے، صدا کریں گے ہم جو کوئی زخم سے چیخ اُٹھا، کیا کریں گے ہم فضا کے محبسِ بے رنگ سے نکلنے کو بہت ہُوا تو پرندے رہا کریں گے ہم ہمارا ظرف اگر آزمانا چاہتا ہے وہ ابتدا تو کرے، انتہا کریں گے ہم کسی بلا سے محبت گزرنا چاہتی ہے خراج اس کو مگر کیا ادا کریں گے ہم نہ دیکھ مرتی ہوئی رات کی یہ آخری سانس نہ دن ہی نکلا تو سورج کو کیا کریں گے ہم ہزار داغِ شبِ غم، گُلِ سحر…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ خدا ہے اور کہیں ناخدا ہے اور کہیں
خدا ہے اور کہیں ناخدا ہے اور کہیں سفر ہے اور کہیں راستہ ہے اور کہیں نگاہ ہے کہ مسلسل بھٹکتی پھرتی ہے چراغ اور کہیں آئنہ ہے اور کہیں قریب آئیں تو سانسیں اُکھڑنے لگتی ہیں درخت اور کہیں ہیں، ہَوا ہے اور کہیں بہت تضاد ہے جنّت میں اور جہنّم میں عدن ہے اور کہیں، نینوا ہے اور کہیں مِرے وجود میں شامل ہے روشنی جس کی مِرے گمان سے کچھ ماورا ہے اور کہیں اِسی نواح میں موجود تھا کہیں وہ بھی کئی دنوں سے مگر کھو…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ اوٹ میں آ گیا اُس کا ہم رقص تو مَیں دِکھائی دیا
اوٹ میں آ گیا اُس کا ہم رقص تو مَیں دِکھائی دیا ضم ہُوا آئنے میں مِرا عکس تو مَیں دِکھائی دیا مجھ سے غافل تھا کیوں کہ مکمّل تھا مَیں اور اکمل تھا مَیں اور ظاہر ہُوا جب مِرا نقص تو مَیں دِکھائی دیا میری پہچان پر کوئی قدغن نہ تھی پھر بھی ممکن نہ تھی جب الگ ہو گیا مجھ سے ہر شخص تو مَیں دِکھائی دیا بے ضرر جان کر مجھ سے غافل تھا وہ، کیسا عامل تھا وہ کچھ ہُوا جب توقّع کے برعکس تو مَیں…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں
کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں خواب کا اسیر ہوں، نیند کی خبر نہیں حق کی بات کہتا ہوں اور مزے میں رہتا ہوں اب تو کوئی غم نہیں، اب تو کوئی ڈر نہیں آپ کا اسیر ہوں، آپ کا سفیر ہوں بات مختصر سی ہے اور مختصر نہیں کس کی خواب گہ ہے یہ، کون سی جگہ ہے یہ سر پہ آسماں نہیں، دامِ بحر و بر نہیں سب سے بدگمان تھا جب مجھے گمان تھا مجھ سا دوسرا کوئی فرشِ خاک پر نہیں جانتے نہیں…
Read More