جوش ملیح آبادی ۔۔۔ مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش

مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش یعنی اضداد ہیں پروردۂ یک ذات اے جوش مست و بیگانہ گزر جا کرۂ خاکی سے یہ تو ہے رہ گزرِ سیلِ خیالات اے جوش اور تو اور خود انسان بہا جاتا ہے کتنا پر ہول ہے طوفانِ روایات اے جوش لوگ کہتے ہیں حجابات نہیں جز آیات کس سے کہئے کہ یہ آیات ہیں خود ذات اے جوش اہلِ الفاظ شریعت پہ مٹے جاتے ہیں کس کو سمجھاؤں مشیت کے اشارات اے جوش دیکھیے صبحِ جنوں ذہن میں…

Read More

تابش مہدی ۔۔۔ جہانِ دل میں سناٹا بہت ہے

جہانِ دل میں سناٹا بہت ہے سمندر آج کل پیاسا بہت ہے یہ مانا وہ شجر سوکھا بہت ہے مگر اس میں ابھی سایا بہت ہے فرشتوں میں بھی جس کے تذکرے ہیں وہ تیرے شہر میں رسوا بہت ہے بہ ظاہر پر سکوں ہے ساری بستی مگر اندر سے ہنگاما بہت ہے اسے اب بھول جانا چاہتا ہوں کبھی میں نے جسے چاہا بہت ہے وہ پتھر کیا کسی کے کام آتا مگر سب نے اسے پوجا بہت ہے مرا گھر تو اجڑ جائے گا لیکن تمہارے گھر کو…

Read More

جلی امروہی ۔۔۔ نفس ﺳﮯ ﺟﻮ ﻟﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ

نفس ﺳﮯ ﺟﻮ ﻟﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﻭﺡ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺟﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﭘﮭﺮ ﻓﺴﺎﺩ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﻑِ ﺧﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﮨﻞِ ﺩﻝ ﺍﮨﻞِ ﻇﺮﻑ ﺍﮨﻞِ ﻧﻈﺮ ﺑﺎﺕ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺟﯿﻨﺎ ﻋﺒﺚ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺑﺰﻡِ ﻋﺸﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻘﺎﻥِ ﻃﺮﺏ ﻧﺎﻟۂ ﺩﻝ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﺭﺱ ﻟﻮ ﭨﻮﭨﺘﮯ ﺣﺒﺎﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﮮ ﺟﻠﯽ ﺩﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔   خاک کی کیمیا

خاک کی کیمیا آسماں جاگتا ہے یا سویا ہوا ہے زمیں زاد ہوں میں، مجھے ایسے قضیے سے کیا مجھے تو زمیں پر بدلتے ہوئے موسموں سے غرض ہے درختوں کے کٹنے کا غم ہے ہوا گرم ہونے لگی ہے کبھی آگ کے دائرے کھینچتی ہے کبھی ریت کی چادریں تانتی ہے وہ ننھے پرندے جو اپنے لڑکپن میں دیکھے تھے،معدوم ہیں شہر تو پھیلتے جا رہے ہیں مگر سانس لینے کا رقبہ سمٹنے لگا ہے ندّیاں سوکھتی جا رہی ہیں سمندر بپھر نے لگے ہیں کہ وہ صاف پانی…

Read More

جوش ملیح آبادی

کوئی صدمہ ضرور پہنچے گا آج کچھ دل کو شادمانی ہے

Read More

راحت اندوری

نئے کردار آتے جا رہے ہیں مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے

Read More

اسحاق وردگ

مرے اعصاب پر طاری رہے گا سفر منزل پہ بھی جاری رہے گا

Read More

ادا جعفری

سجدے تڑپ رہے ہیں جبینِ نیاز میں سر ہیں کسی کی زلف کا سودا لیے ہوئے

Read More