غلام محمد قاصر ۔۔۔ یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے

یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے حسین اس میں خطِ کربلا بناتا ہے یزید موسمِ عصیاں کا لا علاج مرض حسین خاک سے خاکِ شفا بناتا ہے یزید کاخِ کثافت کی ڈولتی بنیاد حسین حُسن کی حیرت سرا بناتا ہے یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گم حسین سر پہ بہن کے ردا بناتا ہے یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھر حسین شام سے پہلے دیا بناتا ہے یزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سے حسین خود نہیں بنتا خدا بناتا ہے

Read More

اختر عثمان ۔۔۔ شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام

شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام جب تشنگی کمال ہوئی شیرخوار کو شبنم کی یاد آنے لگی گُل عذار کو سینے لگایا ماں نے دُرِ آبدار کو تکنے لگا وہ چرخِ تغیّر شعار کو فاقوں سے شیرِ مادرِ معصوم خُشک تھا کافور دودھ ہو گیا اور آب مُشک تھا نہرِ فرات قبضۂ غاصب سرشت میں بٹتے تھے جام صُحبتِ بد عہد و زشت میں پیاسے گئے عزیز و اقارب بہشت میں پانی نہیں تھا ساقیِ کوثر کی کشت میں سیراب فوجِ وحش و چرند و پرند تھی پانی کی راہ…

Read More

محمد اظہارالحق ۔۔۔ سبطِ رسول کے حضور

سبطِ رسول کے حضور بہت سے راستوں میں تو  نے جو رستہ چنا تھا فرشتے آج تک حیرت میں ہیں کیسا چنا تھا بہت سے شہر رہنے کے لیے حاضر تھے لیکن ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے صحرا چنا تھا جو پیچھے آرہے تھے ان سے تو غافل نہیں تھا کہ تو نے راستے کا ایک اک کانٹا چنا تھا جہاں میں کون تھا دوشِ نبی تھا جس کا مرکب اسی خاطر برہنہ پائی نے تجھ سا چنا تھا زمانہ جانتا ہے کون تھا جو پار اترا کہ تو نے…

Read More

فیصل ہاشمی ۔۔۔ بنا کے عرشِ معلٰی، نماز پڑھتا ہے

بنا کے عرشِ معلی، نماز پڑھتا ہے امام خاک پہ بیٹھا نماز پڑھتا ہے سوار گرتے رہے ٹوٹتی رہی تسبیح بوقتِ عصر اکیلا نماز پڑھتا ہے وضو کرایا گیا خاک و خون سے جس کو اسی کے ساتھ زمانہ نماز پڑھتا ہے شریک ہوتا ہوں ماتم میں با وضو ہو کر یہ جسم سارے کا سارا نماز پڑھتا ہے ہماری آنکھ میں فیصل فرات بہتا ہے جہاں شہید کا لاشہ نماز پڑھتا ہے

Read More

سلام ۔۔۔ خورشید ربانی

سلام خدا کی راہ کے بامِ شہِ ہدیٰؐ کے چراغ نظر نظر میں فروزاں ہیں کربلا کے چراغ نشانِ قریۂ باطل مٹاتے جاتے ہیں حسینؓ جادۂ حق میں جلا جلا کے چراغ فضائے خانۂ اسلام جن سے روشن ہے نبیؐ کے گھر کے دیے ہیں رہِ رضا کے چراغ وہ آب جُو کہ جو پہنچی نہیں تھی پیاسوں تک جلاتی پھرتی ہے پلکوں پہ اب عزا کے چراغ یہ ماہ و مہر حقیقت میں ہیں اُنھی کا نُور جلے ہوئے ہیں جو اب سامنے ہوا کے چراغ ہوائے کوفۂ شب…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ سلام

کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علی ہو یہ جو مچل رہی ہے صبا پھٹ رہی ہے پو یہ جو چراغِ ظلم کی تھرا رہی ہے لو در پردہ یہ حسین کے انفاس کی ہے رو حق کے چھڑے ہوئے ہیں جو یہ ساز دوستو یہ بھی اسی جری کی ہے آواز دوستو پھر حق ہے آفتاب لب بام اے حسین پھر بزم آب…

Read More

عارف حسین ۔۔۔ سلام بحضور امامؑ عالی مقام

سلام بحضور امامؑ عالی مقام ٹکڑے ہو ہو کے سرِ دشت بکھرنے کے لئے ہم تو آئے ہیں یہاں آپ پہ مرنے کے لئے لیجئے ہم سُمِ اسپاں سے کچل جاتے ہیں آپ زحمت نہ کریں دفن بھی کرنے کے لئے کھینچ لائی ہے یہاں، غازہِ خونیں کی کشش آگئے ہم بھی یہاں بننے سنورنے کے لئے اس جلالیؑ کو اے مشکیزہِ بے آب سنبھال نہر کو خشک نہ کردے تجھے بھرنے کے لئے آسماں آیا تھا پھیلائے ہوئے دامنِ عرش سر ہی راضی نہ تھا نیزے سے اترنے کے…

Read More

سلام ۔۔۔ شہاب صفدر

سلام کوئی چراغ جب انکارِ شام بھی نہ کرے کرے گا کون اگر یہ امام بھی نہ کرے مری کسی سے نہیں دشمنی مگر جو شخص نہیں حسین کا مجھ سے کلام بھی نہ کرے گراں گزرتی ہے جس دل پہ یادگارِ حسین حضورِحق میں سجود و قیام بھی نہ کرے ہو بادشاہ جو دنیا کے در کا سگ ، اس کو علی کا چاہنے والا سلام بھی نہ کرے جو آنکھ بخشی ہے مولا تو التفات مزید بجز عزائے حسین اور کام بھی نہ کرے وہی تو کوفی ہے…

Read More

ثروت حسین ۔۔۔ سلام یا حسینؑ

سلام یا حسینؑ نظر سے شامِ غریباں کا وہ سماں نہ گیا فراخِ دشت سے پھر ایسا کارواں نہ گیا جھلک اٹھا ہے کنارِ افق سے تابہ افق ابد کنار ہوا خون رایگاں نہ گیا وہ شب چراغ کہ تیرے لہو سے روشن تھا شعاعِ مہر ہوا تو کہاں کہاں نہ گیا ہزار شکر کہ وہ ایک لمحۂ امید جہانِ صبر سے بے صوت بے اذاں نہ گیا ہوائیں تیز تھیں لیکن ہمارے ہاتھوں سے وہ اک نشان وہ دامانِ خونچکاں نہ گیا

Read More