خورشید رضوی

وہ آ گیا تو جیسے سبزے میں جان آئی دوڑی رَمق ہَوا کی ساکت صنوبروں میں

Read More

خورشید رضوی

گھر بناتے ہوئے سیلاب کا سوچا ہی نہ تھا اب سرِ بام ہے بنیاد کا ماتم کیا کیا

Read More

دل کو پیہم وہی اندوہ شماری کرنا ۔۔۔ خورشید رضوی

دل کو پیہم وہی اندوہ شماری کرنا ایک ساعت کو شب و روز پہ طاری کرنا اب وہ آنکھیں نہیں ملتیں کہ جنھیں آتا تھا خاک سے دل جو اَٹے ہوں، اُنھیں جاری کرنا موت کی ایک علامت ہے، اگر دیکھا جائے روح کا چار عناصر پہ سواری کرنا تُو کہاں، مرغِ چمن! فکرِ نشیمن میں پڑا کہ ترا کام تو تھا نالہ و زاری کرنا ہوں مَیں وہ لالۂ صحرا کہ ہُوا میرے سپرد دشت میں پیرویٔ بادِ بہاری کرنا اِس سے پہلے کہ یہ سودا مرے سر میں…

Read More

نیلے پہاڑ ۔۔۔ خورسید رضوی

نیلے پہاڑ ۔۔۔۔۔۔ پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ دُور اُفُق پر آسمانوں سے ملے سبز پیڑوں کی قطاروں سے پَرے پا پیادہ گائوں کی جانب رَواں سادہ دِل اَنجان بڑھیا کی طرح بادلوں کی گٹھڑیاں سر پر رکھے پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ جانے کب قدموں کی زنجیریں کٹیں جانے کب رستے کی دیواریں ہٹیں قفل ٹوٹیں حاضر و موجود کے جانے کب بادل کے رَتھ پر بیٹھ کر بجلیوں کے تازیانے مارتا بارشوں کے پانیوں میں بھیگتا مَیں اڑائوں آندھیوں کے راہوار پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ

Read More

دیریاب ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر خورشید رضوی

دیریاب۔۔۔ خورشید رضوی Download

Read More

اندیشہ ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر خورشید رضوی

اندیشہ ….. خواب ہے ایک زباں جس کی فرہنگ ہے کوئی نہ لغت خواب میں خواب کے کردار ہیں خودحرف وبیاں جو بدل سکتے ہیں ہر لحظہ معانی اپنے خواب ہر جبر سے آزاد ہے وہ وقت ہو یاعقل ہو یاعلت ومعلول کا جبر اُس کے کاندھوں پہ نہیں ہے کسی منطق کا جُوا خواب پابند اگر ہے تو فقط آنکھ کاہے میں بھی اک خواب ہوں اِک سوئی ہوئی آنکھ کی جنت میں مقیم لحظہ لحظہ متغیر ورقِ ابر پہ ہنستےہوئے چہروں کی طرح کوئی اندیشہ اگر ہےتووہی آنکھ…

Read More