کچھ تو کہہ دے کیا کریں اے ساقیِ مے خانہ ہم اپنی توبہ توڑ دیں یا توڑ دیں پیمانہ ہم دل عجب شے ہے یہ پھر کہتے ہیں آزادانہ ہم چاہے جب کعبہ بنا لیں چاہے جب بت خانہ ہم داستانِ غم پہ وہ کہتے ہیں یوں ہے یوں نہیں بھول جاتے ہیں جو دانستہ کہیں افسانہ ہم اپنے در سے آ جائے ساقی ہمیں خالی نہ پھیر مے کدے کی خیر ہو آتے نہیں روزانہ ہم مسکرا دیتا ہے ہر تارا ہماری یاد پر بھول جاتے ہیں قمر اپنا…
Read MoreTag: Qamar Jalalvi
استاد قمر جلالوی ۔۔۔ نہ روکی برق تو نے آشیاں بدلے چمن بدلے
نہ روکی برق تو نے آشیاں بدلے چمن بدلے یہ کب کے لے رہا ہے ہم سے اے چرخِ کہن بدلے محبت ہو تو جوئے شِیر کو اِک ضرب کافی ہے کوئی پوچھے کہ تو نے کتنے تیشے کوہکن بدلے سہولت اس سے بڑھ کر کارواں کو اور کیا ہو گی نئی راہیں نکل آئیں پرانے راہزن بدلے ہوا آخر نہ ہمسر کوئی ان کے روئے روشن کا تراشے گل بھی شمعوں کے چراغِ انجمن بدلے لباس نَو عدم والوں کو یوں احباب دیتے ہیں کہ اب ان کے قیامت…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی
آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی پوری کیا موسیٰؑ تمنا طور پر ہو جائے گی تم اگر اوپر گئے نیچی نظر ہو جائے گی کیا ان آہوں سے شبِ غم مختصر ہو جائے گی یہ سحر ہونے کی باتیں ہیں سحر ہو جائے گی ؟ آ تو جائیں گے وہ میری آہِ پر تاثیر سے محفلِ دشمن میں رسوائی مگر ہو جائے گی کس سے پوچھیں گے وہ میرے رات کے مرنے کا حال…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی
بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی شبِ وعدہ اول تو آتے نہیں تھے جو آئے بھی تو رات ایسی گنوائی کبھی رات کو تم نے گیسو سنوارے کبھی رات کو تم نے مہندی لگائی گلہ بے وفائی کا کس سے کریں ہم ہمارا گلہ کوئی سنتا نہیں ہے خدا تم کو رکھے جوانی کے دن ہیں تمھارا زمانہ تمھاری خدائی ہر اک نے دیے میرے اشکوں پہ طعنے…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی
غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی تمھیں رستے میں رہبر چھوڑ دیں گے قافلے والو اگر ہمت تمھاری دوریٔ منزل سے ٹوٹے گی نگاہِ قیس ٹکراتی رہے گی سارباں کب تک یہ بندش بھی کسی دن پردۂ محمل سے ٹوٹے گی غرورِ نا خدائی سامنے آ جائے گا اک دن یہ کشتی یک بہ یک ٹکرا کے جب ساحل سے ٹوٹے گی قمر اختر شماری کے لئے تیار ہو جاؤ کہ اب رسمِ محبت اس مہِ کامل…
Read Moreحمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔ استاد قمر جلالوی
سن سن کے مجھ سے وصف ترے اختیار کا دل کانپتا ہے گردشِ لیل و نہار کا لاریب لا شریک شہنشاہِ کل ہے تو ! سر خم ہے تیرے در پہ ہر اک تاجدار کا محمود تیری ذات‘ محمدؐ ترا رسول ! رکھا ہے نام چھانٹ کے مختارِ کار کا بنوا کے باغ خْلد ترے حکم کے بغیر شدّاد منہ نہ دیکھنے پایا بہار کا جاتی ہے تیرے کہنے سے گلزار سے خزاں آتا ہے تیرے حکم سے موسم بہار کا رزاق تجھ کو مذہب و ملت سے کیا غرض…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نے
نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نے کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تم نے اس کرم کو مری مایوس نظر سے پوچھو ساقی بیٹھا رہا اور اٹھ کے پلا دی تم نے مجھ پہ احساں نہ رکھو جان بچا لینے کا مرنے دیتے مجھے کاہے کو دعا دی تم نے یہ کہو پیشِ خدا حشر میں منثا کیا تھا میں کوئی دور کھڑا تھا جو صدا دی تم نے ان کے آتے ہی مزہ جب ہے مرا دم نکلے وہ یہ کہتے ہوئے رہ جائیں…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے
عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے ذرے تک میں تو ہی تو ہے خاک زمانہ چھانے ہے چھاننے دو دیوانہ ان کا خاک جو در در چھانے ہے کوئی کسی کو کیا سمجھائے کون کسی کی مانے ہے میں اور مے خانے میں بیٹھا شیخ ارے ٹک توبہ کر مردِ خدا میں جانوں نہ تانوں مجھ کو تو کیوں سانے ہے مے خانے میں دنیا دنیا آئے دنیا سے کچھ کام نہیں جام اسی کو دے گا ساقی جس کو ساقی جانے ہے جام نہ دینے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ استاد قمر جلالوی
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے پہلے کوئی شے حق نے نہ اَصلا دیکھیخُوب جب دیکھ لیا تجھ کو تو دنیا دیکھی تو نے قبل از دو جہاں شانِ تجلیٰ دیکھیعرش سجتا ہوا ،بنتی ہوئی دنیا دیکھی تیرے سجدے سے جھکی سارے رسولوں کی جبیںسب نے اللہ کو مانا ،تری دیکھا دیکھی میزباں ،خالقِ کو نین بنا خود تیراتیری توقیر سرِ عرشِ معلٰی دیکھی آپ چپ ہو گئے ارمانِ زیارت سن کرمیری حالت پہ نظر کی نہ تمنا دیکھی حق کے دیدار کی بابت جو کہا فرمایااِک…
Read More