آنس معین

تعلقات میں آئی ہے بس یہ تبدیلی ملیں گے اب بھی مگر انتظار کم ہوگا

Read More

علی اصغر بلوچ ۔۔۔ اس دل کے گزرگہ سے گزر جائیں گے اک دن

اس دل کے گزرگہ سے گزر جائیں گے اک دن یعنی کہ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اک دن امید پہ موقوف ہے یہ رونقِ دنیا صحرا میں بھٹکتے ہوئے گھر جائیں گے اک دن یہ کون سخی دشتِ اذیت میں کھڑا ہے لینے کو قدم اس کے شجر جائیں گے اک دن تم نے تو یہ سمجھا ہے کہ دیوار بنے ہو جانے کے نہیں لوگ مگر جائیں گے اک دن ایوانِ تمنا میں کوئی جشن بپا ہے کہرام مچے گا جو ادھر جائیں گے اک دن…

Read More

گل فراز ۔۔۔ نہیں ایسا کمی ہے کوئی یا اچھی نہیں ہے

نہیں ایسا کمی ہے کوئی یا اچھی نہیں ہے مگر جو چیز مجھ کو چاہیے ویسی نہیں ہے ہمیشہ کامیابی ہی ملی ہے مجھ کو اس میں خسارہ کام وہ ہے جس میں ناکامی نہیں ہے اگرچہ ثابت و سالم نکل آیا وہاں سے مگر وہ پہلے جیسی بات جو باقی نہیں ہے جو چپ ہوں تو نہیں ایسا کہ تجھ سے متفق ہوں یہ ہاں میں ہاں ملانے والی خاموشی نہیں ہے نہ رکھ دے خوار کر کے جو، بھلا وہ زندگی کیا بھلا کس کام کا وہ وقت…

Read More

حمد باری تعالیٰ … سید ریاض حسین زیدی

ربِ کریم! تیری عنایت ہے بے بہا بے خانماں کو گھر جو دیا تو نے خوش نما بے مثل کیسا حقِ رفاقت ہوا ادا دیکھے نہ مصطفی ؐ کہیں تجھ سے کبھی جدا ہریالیوں نے روحِ جہاں کو سجا دیا شاداب تیرا گھر ملا ، گنبد ملا ہرا دکھلائی تو نے راہ جو ہے راہِ مستقیم سمجھا دیا کہ کام نہ ہرگز ہو ناروا تو چاہے کائنات اندھیروں میں جا گھرے تیرا کرم ہے تو  نے اندھیروں کو دی ضیا عہد ِستم میں غیرتِ ایماں خطر میں تھی ہے تیرا…

Read More

شہاب صفدر ۔۔۔ فلک گرانے زمیں سے شروع ہو جاؤ

فلک گرانے زمیں سے شروع ہو جاؤ اٹھاؤ تیشہ کہیں سے شروع ہو جاؤ کسی گماں کو ہے ممکن بنایا جا سکتا بس ایک بار یقیں سے شروع ہو جاؤ حساب ِ شاہ اگر کر سکو تو بسم اللہ فقیرِ گوشہ نشیں سے شروع ہو جاؤ سروں کی فصل ہے اور بے دریغ کاٹنی ہے چلو یسار و یمیں سے شروع ہو جاؤ خود اپنے ہاتھ سے بھرنا ہے پیٹ دوزخ کا نکل کے خلدِ بریں سے شروع ہو جاؤ سفر بخیر، ہے انجامِ  کار نیک تو پھر جہاں کھڑے…

Read More

فراست رضوی ۔۔۔ رباعیات

بچپن کے مکانات بھی مٹ جاتے ہیں اسکول بھی باغات بھی مٹ جاتے ہیں شہروں میں نئے شہر جو ہوتے ہیں طلوع ماضی کے نشانات بھی مٹ جاتے ہیں ……………… گیتی پہ ستاروں نے لگایا پھیرا خالق کی ثنا کرنے لگا دل میرا ساون کی سیہ رات میں دیکھا میں نے شاخوں پہ شجر کی جگنوؤں کا ڈیرا ……………… لفظوں میں صداقت کا یہ جوہر نہ ملا اسلوب کی ندرت کا یہ منظر نہ ملا کیا شوکتِ اظہار ہے، کیا ندرتِ فکر اقبال سا کوئی بھی سخنور نہ ملا …………………

Read More

نعتؐ ….نسیمِ سحر

وہؐ سُن کے عِشق میں ڈوبی سطُور، خوش ہوں گے غلام سے مرے آقا حضورؐ خوش ہوں گے بُلاوا آیا جو عُشّاق کو مدینے سے بحور و دشت بھی کر کے عبور خوش ہوں گے خدا کرے یہ مرا خواب سچا ثابت ہو کہ میری نعت سنیں گے حضورؐ، خوش ہوں گے اُڑان میں جو کریں گے طوافِ گُنبدِ سبز تو خوب چہکیں گے اُڑتے طیور، خوش ہوں گے ! پسینہ اُن ؐ کا جو پھیلائے گا مہک اپنی تو ہار مان کے عُود و بخُور خوش ہوں گے مدینے…

Read More

جگر مراد آبادی

سب پہ تو مہربان ہے پیارے کچھ ہمارا بھی دھیان ہے پیارے

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ہیچ ہے (مولانا حالی کے ایک شعر پر تضمین)

ہیچ ہے (مولانا حالی کے ایک شعر پر تضمین) جس طرح اک صید‘ صیادوں کے آگے ہیچ ہے شاعری میری سب اُستادوں کے آگے ہیچ ہے جانتا ہوں میں کہ یہ میری دکانِ شیشہ گر وقت کے آئینہ آبادوں کے آگے ہیچ ہے یہ مرا فکرِ سخن آثار‘ اندازِ جدید فکر و فن کی کہنہ بنیادوں کے آگے ہیچ ہے سنگ زارِ فن پہ میرے لفظ کی تیشہ زنی کوہسارِ فن کے فرہادوں کے آگے ہیچ ہے جانتا ہوں‘ یہ مرا طرزِ ادا‘ رنگِ صدا مانیوں کے اور بہزادوں کے…

Read More

آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ بھیجا ہے مے کدے سے کسی نے پیامِ غم

بھیجا ہے مے کدے سے کسی نے پیامِ غم آؤ کہ منتظر ہے کوئی ہم کلامِ غم لے جائے اب جہاں کہیں شبدیزِ زندگی تھامی ہوئی ہے ہاتھ میں ہم نے زمامِ غم یوں اپنے ظرف کا نہ تمسخر اُڑائیے سر پر اُنڈیلیے، یہ بچا ہے جو جامِ غم آئے گا ایک رقعۂ خالی جواب میں اُس کے بجائے بھیجئے نامہ بہ نامِ غم مفرورِ معتبر ہیں ، ملیں گے یہیں کہیں اپنے زیاں کے کھوج میں والا کرامِ غم سب کو بلائے عشرت ارزاں نے کھا لیا اب تو…

Read More