نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ اکرم ناصر

لبوں کو چھو کے جو پانی بنا ہو آبِ حیات اب اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے قندونبات حضور آپ کے رستے سے ہٹ کے کیسے چلوں حضور آپ کا رستہ ہی تو ہے راہِ نجات حضور آپ کی خاطر ہی تو بنائے گئے زمین و آسماں یعنی تمام کائنات حضور آپ ہی کے دین کو ہمیشگی ہے حضور آپ ہی کے دین کے لئے ہے ثبات یہ شہر ، شہرِ مدینہ ہے ، عام شہر نہیں یہاں سکون سے چلتا ہے کاروبارِ حیات

Read More

سید فخرالدین بلے ۔۔۔ نزول ِقرآن

نزول ِقرآن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چار سو جلوۂ لَولَاکَ لَما رقص میں ہے والقلم ! سلسلۂ ارض و سما رقص میں ہے لیلۃ القدر میں خورشید بکف ہے جبریلؑ جبل النْور پہ خود نورِ ہدیٰ رقص میں ہے صبحِ تہذیبِ طریقت کی اذاں سے پہلے ہمہ تن کار گہِ قدر و قضا رقص میں ہے عرشِ اعیان کی لے فرشِ زمیں تک پہنچی سازِ اقرا پہ شبستانِ حرا رقص میں ہے وجد میں عالمِ امکاں ہی نہیں ہے ، والعصر اپنے نغمات پہ خود نغمہ سرا رقص میں ہے عالمِ وجد میں…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ اسی رخ دل رواں پایا گیا ہے

اسی رخ دل رواں پایا گیا ہے جدھر روشن سا اک سایا گیا ہے اک اُس کی دُھن میں کیا کیا گُن سمیٹے جو گیت اندر کہیں گایا گیا ہے ترے بخشے ہوئے اک غم کے دَم سے یہ دل کچھ اور گہرایا گیا ہے کبھی اک بوند بحرائی گئی ہے کبھی اک بحر قطرایا گیا ہے سرِ صحرا اسے بھی پڑھ کے دیکھو ہواؤں سے جو لکھوایا گیا ہے دمکتا ہے برابر چاند اپنا فقط خبروں میں گہنایا گیا ہے سخن میں سوز ہے سارا اُسی سے ہمیں جس…

Read More

محمد ندیم صادق ۔۔۔ فلسطین اور ہم

فلسطین اور ہم ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ کو نیند نہیں آتی مجھے فلسطینی بچوں کی صدائیں سنائی دیتی ہیں لاشیں بکھری ہیں ہر جانب گلیوں میں، بازاروں میں چوکوں میں چوراہوں میں ڈھیر لگے ہیں ملبے کے بھیڑ مچی ہے لاشوں کی کوئی سکول بچے ہیں نہ ہی شفا خانے ظالم کے گولوں سے اگلی نسل ہماری ختم ہو رہی ہے اور ہم …………

Read More

خالد احمد

اے صفِ ماتم ٹھہر ، اے مجلسِ گریہ سنبھل! تازہ دم ، تازہ نفس، تازہ رثا آنے کو ہے

Read More

رخشندہ نوید ۔۔۔ راضی بہ رضا آپ ہوا آپ کا بیمار

راضی بہ رضا آپ ہوا آپ کا بیمار کس منہ سے بھلا مانگے دوا آپ کا بیمار بے یار و مددگار پڑے دیکھا تھا خود کو کہتے ہوئے لوگوں کو سنا آپ کا بیمار اک بار ذرا ہاتھ تو اس نبض پہ رکھیے ہو جائے گا پھر اچھا بھلا آپ کا بیمار کل رات بھی وحشت نے کہیں کا نہیں چھوڑا اِمشب بھی اسی چھت پہ رہا آپ کا بیمار کیا کیا نہیں بھیجیں تھیں طبیبوں نے دوائیں بیمار مگر پھر بھی رہا آپ کا بیمار دیوانہ سمجھ کر کوئی…

Read More

بشیر احمد حبیب ۔۔۔ مجھ سے جانے کیوں روٹھے ہو

مجھ سے جانے کیوں روٹھے ہو سب سے تم ہنس کر ملتے ہو دل میں اتنا درد چھپا کر کیسے تم ہنستے رہتے ہو اپنے گھر کو آ کر دیکھو اس دل میں بس تم بستے ہو یاس بھری ان راتوں میں تم جگنو سے اڑتے پھرتے ہو ساون کے موسم میں جاناں بارش سے تم کیوں ڈرتے ہو اپنابھی ہے مسکن تب تک شہر میں تم جب تک ٹھہرے ہو قسمت کی فیاضی ہے جو تم، ہم سے یوں آ ن ملے ہو وقت تو چلتا ہی رہتا ہے…

Read More

مسکراہٹ کا بیج … مظفر حنفی

مسکراہٹ کا بیج ………………….. کس جگہ میں نے اس کو دیکھا تھا کون سا ماہ کون سا دن تھا یاد اس کے سوا نہیں کچھ بھی کار زن سے نکل گئی تھی مگر کار سے جھانکتا ہوا چہرہ دیکھ کر مجھ کو مسکرایا تھا جانے کیا بات ہے کہ میں جب بھی جس جگہ بھی اداس ہوتا ہوں کار سے جھانکتا ہوا چہرہ یاد آتا ہے مسکراتا ہے اور میں مسکرانے لگتا ہوں

Read More

فریادی ماتم ۔۔۔ آشفتہ چنگیزی

فریادی ماتم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدائے لم یزل کی بارگاہ میں سر بہ سجود انا کی چوکھٹوں میں جڑے چہروں والے لوگ پیشانیوں پر گٹے ڈالنے میں مصروف ہیں آٹے میں سنی مٹھیاں ان کی بخشش کی ضمانت ہیں یہ کون سی جنتِ نعیم ہے جس کا راستہ چیونٹیوں کی بانبی سے ہو کر گزرتا ہے دربانوں اور کتوں کو کھلی آزادی ہے ‘جاگتے رہو’ کی صدائیں عنایتوں کا خراج وصول کرتے نہیں تھکتی ہیں سرکس کا پنڈال کھچا کھچ بھرا ہے میمنوں کے باڑے میں سہما دبکا۔۔۔گھاس کھاتا شیر کیسا بے…

Read More

اجنبی ۔۔۔ آفتاب اقبال شمیم

اجنبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لڑکا شاہزادہ سا جسے بے نام خوشبوؤں کی آوازیں تصّور کی زمینوں میں سدا آوارہ رکھتی تھیں جسے گھر سے گلی سے مدرسے تک تربیت نے قاعدے کی تال پر چلنا سکھایا تھا وہ کنجِ خواب کا حجلہ نشیں خواہش کے روزن سے سمندر کے اُفق پر دیکھتا تھا خواب اُڑتے بادبانوں کے تمسخر روشنی کا دن کے چہرے پر وہ لڑکا شاہزادہ سا جسے بے رشتہ رہنا تھا ہمیشہ شہرِ اشیا کی ثقافت میں کسے رعنائیاں اپنی دکھاتا کس پہ کشفِ دلبری کرتا کسے پہچانتا کیسے…

Read More