کوہ ندا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح سویرے ایک لرزتی کانپتی سی آواز آتی ہے سونے والو! تم مالک کو بھول گئے ہو تم مالک کو بھول گئے ہو پھر چمکیلی مل کا سائرن ایک غلیظ ڈرانے والی تند صدا کے روپ میں ڈھل کر دیواروں سے ٹکراتا ہے اور گلیوں کے تنگ اندھیرے باڑے میں کہرام مچا کر بھیڑوں کے گلے کو ہانک کے لے جاتا ہے پھر انجن کی برہم سیٹی میخ سی بن کر میرے کان میں گڑ جاتی ہے اور شب بھر کی نچی ہوئی اک ریل کی بوگی…
Read MoreMonth: 2025 جنوری
ماجد صدیقی ۔۔۔ اُس نے بھی جو زہریلے دشمن پر اب کے جھپٹا ہے
اُس نے بھی جو زہریلے دشمن پر اب کے جھپٹا ہے سانپ کو ہاتھ میں پکڑا پر ڈھیلے انداز سے پکڑا ہے جتنے ہم مسلک تھے اُس کے کیا کیا اُس سے دُور ہوئے دنیا نے اک جسم کو یوں بھی ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے اور تو امّ الحرب کو ہم عنوان نہیں کچھ دے سکتے ہاں خاشاک نے دریا کو چالیس دنوں تک روکا ہے ماجد جھُکتے سروں سے آخر یہ اِک بات بھی سب پہ کھلی کھٹکا ہے تو نفقہ و نان کا ہم ایسوں کو کھٹکا ہے
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ دکھ کا احساس نہ مارا جائے
دکھ کا احساس نہ مارا جائے آج جی کھول کے ہارا جائے ان مکانوں میں کوئی بھوت بھی ہے رات کے وقت پکارا جائے سوچنے بیٹھیں تو اس دنیا میں ایک لمحہ نہ گزارا جائے ڈھونڈتا ہوں میں زمیں اچھی سی یہ بدن جس میں اتارا جائے ساتھ چلتا ہوا سایہ اپنا ایک پتھر اسے مارا جائے ہم یگانہ تو نہیں ہیں علوی ناؤ جائے کہ کنارا جائے
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹ
دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹ پھر چوٹ بھی وہ چوٹ جو ہے بے پناہ چوٹ پھوڑا سر اس کے در سے کہ برسے جنوں میں سنگ مجھ کو دلا رہی ہے عجب اشتباہ چوٹ بجلی کا نام سنتے ہی آنکھیں جھپک گئیں روکے گی میری آہ کی کیا یہ نگاہ چوٹ لالچ اثر کا ہو نہ کہیں باعثِ ضرر ٹکرا کے سر فلک سے نہ کھا جائے آہ چوٹ منہ ہر دہانِ زخم کا سیتے ہیں اس لیے مطلب ہے حشر میں بھی نہ ہو داد…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ ریحانہ روحی
ریحانہ روحی رہائی مشرقی عورت کی کیا اسیری کیا یہاں قفس سے قفس تک اُڑان ہے اور بس میں اکثر نسائی شاعری میں ترقی پسند اور خانگی تانیثیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یا نسائی اسلوبِ بیاں میں اظہار کے مسائل پر کچھ تحریر کرتے ہوئے، مذکورہ بالا شعر کا حوالہ ضرور دیتا ہوں۔ یہ خوب صورت شعر نسائی شاعری کے ارتقا میں کئی شاعرات کی بنیادی فکر کی عکاسی کرتا ہے۔یہ شعر معروف شاعرہ ریحانہ روحی کا ہے جو کافی عرصہ وطن سے دور الخبر (سعودی عرب) میں…
Read Moreسید آلِ احمد
تم آ گئے تو لب پہ تبسم بھی آ گیا ورنہ تو شام ہی سے مرا دل اُداس تھا
Read Moreمحسن اسرار
ہذیان بک رہا ہوں سخن کے بجائے میں تنبیہ کر رہا ہوں کہ مجنوں سنے مجھے
Read Moreاقبال کوثر
مفلسو! شب اسی فٹ پاتھ پہ تم کاٹو گے چھوٹے لوگوں کو بڑے خواب نہیں مل سکتے
Read Moreشارق جمال ناگپوری
ادھورا جسم لیے پیچھے ہٹ رہا ہوں میں کہ اک کنارا ہوں دریا کا کٹ رہا ہوں میں
Read Moreاکرم ناصر ۔۔۔ آؤ کریں یہ وعدہ سبھی، بھولنا نہیں
آؤ کریں یہ وعدہ سبھی، بھولنا نہیں اک دوسرے کو ہم نے کبھی، بھولنا نہیں ممکن ہے بھول جائے کبھی ایک عمر بعد بیکار کھپ رہا ہے ابھی ،بھولنا نہیں رکھ لینا لاج قبر میں ، میدانِ حشر میں اس امتی کو میرے نبی ، بھولنا نہیں اس معرکے میں ہم نے اٹھائے ہیں لاکھ زخم یہ معرکہ بھی ہم کو کبھی ، بھولنا نہیں رکھنا ہے یاد ، کلمۂ توحید لاالہ کہتے ہیں مجھ سے میرے نبی، بھولنا نہیں
Read More