خاور اعجاز ۔۔۔۔ کچھ تیر کے باعث ہے نہ تلوار کے باعث

کچھ تیر کے باعث ہے نہ تلوار کے باعث مَیں کٹ کے گِرا اپنی ہی گفتار کے باعث کوتاہ قدوں پر تو عنایت کی نظر ہے مجھ پر ہے ستم قامتِ دستار کے باعث سب کو مِلا چپ رہنے پہ انعام میں خلعت مَیں مارا گیا جرأتِ اظہار کے باعث کچھ طالعِ خوابیدہ سے شکوہ نہیں اُن کو جھگڑا ہے مِرے دیدۂ بیدار کے باعث کھینچی تھی جو رُخ موڑنے کے واسطے خاور سیلاب در آیا اُسی دیوار کے باعث

Read More

عرفان صدیقی

عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

Read More

شارق جمال ناگپوری

ڈس نہ لے دیکھو کہیں دھوپ کا منظر مجھ کو تم نے بھیجا تو ہے بل کھاتی سڑک پر مجھ کو

Read More

یوسف حسن

سنتے ہیں وہ آشیاں تھا اپنا جو قفس رہا ہے

Read More

اقبال کوثر

بونے بھی سمجھنے لگے دستار پہن کر ان جیسا کوئی صاحبِ قامت ہی نہیں ہے

Read More

شبیر شاہد

میرے بدن کی تنہا مشعل اور صحرا کی تیز ہوا

Read More

اقبال کوثر

چپ چپ جلتے رہے ہیں جیسے قسمت ایک ہماری ہے میں اور دیا اکٹھے جاگے، مل کر رات گزاری ہے

Read More

ڈاکٹر شاہد اشرف

شاہد اشرف سامنا کیسے کروں جتنی آلودہ جبیں ہے ان دنوں

Read More

غلام حسین ساجد

بھٹک کر آئی تھی کچھ دیر کو ادھر دنیا لپٹ گئی مرے دل سے کسی بلا کی طرح

Read More

اختر شمار ۔۔۔ خبر نہیں کہ ملیں ہم زباں کہیں نہ کہیں

خبر نہیں کہ ملیں ہم زباں کہیں نہ کہیں ہماری ہو گی مگر داستاں کہیں نہ کہیں کہاں کہاں لیے پھرتی ہے اک خیال کی رو ہمارے دل سا بھی ہو گا سماں کہیں نہ کہیں ضرور ملتا رہے گا مٹانے والوں کو ہمارے بعد ہمارا نشاں کہیں نہ کہیں شجر شجر پہ یہ سرگوشیاں ہیں پتوں کی کہ فصلِ گل میں بھی ہو گی خزاں کہیں نہ کہیں لہو جو دل کا جلائے ہوئے ہے کیا شے ہے؟ اگر ہے آگ تو ہو گا دھواں کہیں نہ کہیں

Read More