آئینۂ صفاتِ حق ان سے وفا کی ابتدا صل علی محمدٍ ان پہ وفا کی انتہا صل علی محمدٍ صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنَا پڑھ دل و جاں سے وہ درود گونجے افق افق صدا صل علی محمدٍ عشق کے ماسِوا ہے کیا ؟ عشق سے بھی سَوا ہے کیا ؟ سب نہیں اس میں کیوں سَوا صل علی محمدٍ ہم تھے عدم میں کالعدم ، ان پہ درود کے لئے لائی وجود میں قضا صل علی محمدٍ ان پہ درود القلم ، ان پہ درود الکتاب ان پہ درود الھدیٰ صل…
Read MoreCategory: آج کی نظم
سارا شگفتہ ۔۔۔ خالی آنکھوں کا مکان
خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو آگ کا ذائقہ چراغ ہے اور نیند کا ذائقہ انسان مجھے پتھروں جتنا کس دو کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو میں خدا کی زبان منہ میں رکھے کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹا زنجیروں کی رہائی دو کہ انسان ان سے زیادہ قید ہے مجھے تنہا مرنا ہے سو یہ آنکھیں یہ دل کسی خالی انسان کو دے…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ ہیچ ہے (مولانا حالی کے ایک شعر پر تضمین)
ہیچ ہے (مولانا حالی کے ایک شعر پر تضمین) جس طرح اک صید‘ صیادوں کے آگے ہیچ ہے شاعری میری سب اُستادوں کے آگے ہیچ ہے جانتا ہوں میں کہ یہ میری دکانِ شیشہ گر وقت کے آئینہ آبادوں کے آگے ہیچ ہے یہ مرا فکرِ سخن آثار‘ اندازِ جدید فکر و فن کی کہنہ بنیادوں کے آگے ہیچ ہے سنگ زارِ فن پہ میرے لفظ کی تیشہ زنی کوہسارِ فن کے فرہادوں کے آگے ہیچ ہے جانتا ہوں‘ یہ مرا طرزِ ادا‘ رنگِ صدا مانیوں کے اور بہزادوں کے…
Read Moreنسیم نازش ۔۔۔ دائرہ در دائرہ
دائرہ در دائرہ ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ہر ایک قسمت میں لکھا ہے مسلسل دائروں میں گھومتے رہنا سفر سارے سفر یونہی کٹے ہیں ہماری زندگی بھی ایک ہی مرکز کے چکر کاٹتی ہے وہ مرکز صرف تھوڑی سی محبت اور عزت اور اک نانِ جویں کی آرزو ہے کبھی جو مل نہ پائے ایک ایسے ہم سفر کی جستجو ہے میں برسوں سے کسی آندھی کے جھکڑ کی طرح اس دائرے کے رقصِ پیہم سے بہت گھبرا گئی ہوں کہ میں چکرا گئی ہوں مگر یہ تو ازل کا سلسلہ ہے…
Read Moreانور مسعود ۔۔۔ نظم (بیادِ امجد اسلام امجد)
نظم (بیادِ امجد اسلام امجد) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے انور ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے؟ غم و اندوہ کی شِدّت نہ پوچھو یہ لگتا ہے بہت کچھ کھو گیا ہے زبانِ خلق دیتی ہے گواہی وہ جنّت کی طرف ہی تو گیا ہے رہو چُپ چاپ امجد کے سرہانے ابھی کچھ لِکھتے لِکھتے سو گیا ہے
Read Moreآصف ثاقب ۔۔۔ گاؤں والا
گاؤں والا میں یاری دوستی کا ذوق رکھوں پسندیدہ ہے میری آشنائی میں بیلے پر کبڈی کھیل کھیلوں جو لہروں نے مجھے تیزی سکھائی میں نغمہ بار کھیتوں میں پھرا ہوں بھری فصلوں نے بخشی ہے رسائی اطاعت گاؤں کے بچّوں سے سیکھی بزرگوں نے سکھائی ہے بڑائی میں لکھوں خوش خطی کاغذ پہ ایسے مرے دل میں ہے روشن روشنائی ملے پنگھٹ سے نینوں کو ستارے بھلی ہے آنچلوں کی رونمائی گھنے تھے گاؤں میں والد کے سائے بڑی میٹھی تھی جنت مامتائی ستارہ وار میں گلیوں میں گھوموں…
Read Moreزعیم رشید ۔۔۔ بلوغت کی ایک نظم
کھل جاسم سم کھل جاسم سم…. کھل جاسم سم کہنے سے بھی غار دہانہ کب کھلتا ہے! میں نے اپنے تشنہ، ترسے گرم لبوں سے نیند کے ماتے تن پر ہلکے ہلکے دستک دی تو کوئی نہیں تھا کنڈلی مار کے بیٹھی دھوپ سے خود کو ڈسوانے کی لذت اب شہوت میں بدل گئی تھی جسم کی وحشت الماری میں اِک ہینگر سے لٹک رہی تھی اس کھڑکی کی انگڑائی میں ایک خزانہ دہک رہا تھا ایک برہنہ مست کنواری خواہش تھی جو اب دو مونہی ناگن بن کرپھن پھیلائے…
Read Moreفرحت پروین ۔۔۔ تمھارے چار سو میں ہوں
’’کبوتر کے پروں پر لکھ کے جو پیغام بھیجا تھا ملا تم کو؟‘‘ ابھی تو رنگ بھرنے تھے بہت سے میں نے لفظوں میں بھلا بیٹھی جو عجلت میں سو تتلی کو روانہ کر دیا ہے اس تعاقب میں مگر پھر ناگہاں دل میں خیال آیا مرا سوزِ دروں شاید عیاں پھر بھی نہ ہو پائے تمہاری سمت اب محوِ سفر ہے ایک بلبل بھی مگر وہ ہوک جو رہ رہ کے اٹھتی ہے مرے دل سے تڑپ اس کی سما پائے گی کیا بلبل کے نغمے میں سو لازم…
Read Moreخورشید رضوی ۔۔۔ سات سمندر پار وطن کی یاد
سات سمندر پار وطن کی یاد ……………………………………………………………………………….. اے میرے وطن اے پیارے وطن جب اسکولوں کے گیٹ کھلیں جب بچوںکا ریلا آئے پتھر کی سڑک پر پھول کِھلیں خوشبوؤں کا دریا آئے جب ایک سی وردی پہنے ہوئے بچوں کو گھر والے بھولیں جب سائیکلوں اور تانگوں پر بستے لٹکیں، تھرمس جھولیں تب سات سمندر طے کر کے اُن کی چاپیں مجھ کو چھو لیں اور دل مین درد کی ہوک اُٹھے اے میرے وطن اے پیارے وطن جب رنگ بھرا ہو شاموں میں جب بور لدا ہو آموں میں…
Read Moreشاہین عباس ۔۔۔ اے تصویر انسان
اے تصویر انسان (۱) کوئی کوئی دن سمے کی دھار پہ ایسا بھی آ جاتا ہے اچھی بھلی نبضوں پر چلتی گھڑ یاں کام نہیں کرتیں کبھی کبھی کا جھونکا سا دن کئی کئی دن چلتا ہے سِن اندرسِن سال اندرسال قرنوں اندر قرن الٹتا قرن پلٹتا بارہ گھنٹوں کے چکر میں ، چلتا اور چکراتا گولا جسم ہیولوں سا اک چولا دانہ چگتا دن ، جب گنبد گنبد چکر کاٹتا ہے ، تو جیسے دنیا کے نقشے پر گندم کی سب بالیاں گھیرے میں لے لیتا ہے دن جیسے…
Read More