جس میں نہ کوئی رنگ نہ آہنگ نہ خوشبو تم ایسے گلستاں کو جلا کیوں نہیں دیتے
Read MoreCategory: ج
صفی لکھنوی
جب تک کہ دل میں دل ہے تری آرزو رہے شل ہوں جو تھک کے پاؤں، غمِ جستجو رہے
Read Moreصفی لکھنوی
جو بڑھے حدِ طریقت سے وہ تھک جائیں گے کفر و ایماں کے دو راہے پہ بھٹک جائیں گے
Read Moreڈاکٹر امام اعظم
جو مزے آج ترے غم کے عذابوں میں ملے ایسی لذت کہاں ساقی کی شرابوں میں ملے
Read Moreدلاور فگار
جو تیتر اور چکور ہیں وہی پکڑیں ان کو جو چور ہیں میں چکور اکور کا کیا کروں مری فاختہ کوئی اور ہے
Read Moreعنبر بہرائچی
جانے کیا برسا تھا رات چراغوں سے بھور سمے سورج بھی پانی پانی ہے
Read Moreصبا اکبر آبادی
جان دیں گے ہم تو پڑھ پڑھ کے درود موت چاہے جتنی ہیبت ناک ہو
Read Moreحبیب جالب
جُھکے گا ظُلم کا پرچم ، یقِین آج بھی ہے مِرے خیال کی دُنیا حَسِین آج بھی ہے بہت ہَوائیں چلِیں میرا رُخ بدلنے کو مگر نِگاہ میں وُہ سر زمین آج بھی ہے صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروانِ حُسینؑ یزید چین سے ، مسند نشِین آج بھی ہے
Read Moreجون ایلیا
جانے کیا واقعہ ہوا، کیوں لوگ اپنے اندر نہیں رہے آباد
Read Moreڈاکٹر افتخارالحق
جو حقیقت میں کھنکتی تھی کہانی کیا ہوئی عمر کے گُلّک میں رکھی رایگانی کیا ہوئی
Read More