عزیز فیصل

کودے ہیں اُس کے صحن میں دو چار شیر دل ہم فیس بک کی وال سے آگے نہیں گئے

Read More

استاد رامپوری ۔۔۔۔ لوگ کہنے لگے منشی کا خیال اچھا ہے

کوٹھڑی ٹھیک نہ کوٹھی کا خیال اچھا ہے یار جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے مارچ میں عقد ہوا اور ستمبر میں طلاق کوئی بتلائے برا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ناتواں قیس ہے اب کون اسے سمجھائے ایسے حالات میں لیلیٰ کا وصال اچھا ہے بے حجابی نہیں معشوق کی فطرت اے دوست بدر سے میں تو سمجھتا ہوں ہلال اچھا ہے رات لڑنے لگے استاد سے طوفان سخن لوگ کہنے لگے منشی کا خیال اچھا ہے

Read More

ماچس لکھنوی ۔۔۔۔ آپ میں آگ لگانے کا کمال اچھا ہے

جب کہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالبؔ کے کماؤ اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے چارہ گر کہتے ہیں بس موت کی باقی ہے کسر اور ہر طرح سے بیمار کا حال اچھا ہے نہیں معلوم اگر سانپ کا منتر تو نہ پھنس ہاتھ اس سانپ…

Read More

رؤف رحیم ۔۔۔ ملک سے سارے غریبوں کو نکال، اچھا ہے

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے ہم سے خوش فہموں کا یارو یہ خیال اچھا ہے نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے صرف نعروں سے غریبی تو نہیں مٹ سکتی ملک سے سارے غریبوں کو نکال، اچھا ہے ساتھ بیگم کے ملا کرتے ہیں دس بیس ہزار مفت کے مالوں میں سسرال کا مال اچھا ہے نرس کو دیکھ کے آ جاتی ہے منہ پہ رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا…

Read More