فیض احمد فیض ۔۔شخصیت اور فن پاکستان کے قیام کے بعد اردو کے جس شاعر کو پاکستان اور بیرون پاکستان سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی وہ فیض احمد فیض ہیں۔ شہرت و مقبولیت کی اسی دولت کے سبب ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ساتھ ان سے اختلاف رکھنے والوں کا بھی ہمیشہ سے ایک حلقہ موجود رہا ہے یعنی نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا ؟ انہوں نے جب شاعری کی ابتداء کی تو بیسویں صدی کے سب سے زیادہ قد آور شاعر علامہ…
Read MoreCategory: منتخب مضامين
سید راشد حامدی ۔۔۔ پنڈت آنند نرائن ملّا کا نظریۂ شعر و ادب
پنڈت آنند نرائن ملا کا نظریہ شعر و ادب پچھلی صدی کے پانچویں دہے سے شعر و ادب کے نام نہاد ناقدین ایک جھوٹ بڑے تو اتر سے بولتے آ رہے ہیں کہ ’’اگر سچ زیادہ ہو تو فن کم ہو جاتا ہے ‘‘۔ اگر اس جملے کی تقلیب کر کے یوں کہا جائے کہ ’’اگر جھوٹ زیادہ ہو تو فن بڑھ جاتا ہے ‘‘۔ تو ان ناقدین کی تیوریوں پر بل پڑ جائیں گے اور کہنے والے کا ادبی مقاطعہ کرنے میں انہیں دیر نہیں لگے گی۔ حالانکہ یہ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ کشور ناہید
کشور ناہید کشور ناہید کی ابتدائی شاعری میں رومان انگیزی، محبت کی خواب ناک کیفیات اور کسی حد تک جنسی محرومیاں نمایاں تھیں۔بعد ازاں ’’عروسی‘‘ اور ’’رات آتی ہے‘‘ جیسی نظموں میںعورت کی تشنہ آرزوئیں جھلکتی محسوس ہوتی ہیں۔گویا تجربات و مشاہدات میں اضافے کے ساتھ انہوں نے عورت کی نفسیاتی گتھیوں کو بھی سمجھاجو اُن کی تخلیقات کا اہم موضوع بھی بنا۔کشور ناہید کا تخلیقی کینوس اکثر ہم عصروں سے زیادہ وسیع ہے، اِس لیے کہ مغربی ادب پر بھی اُن کی نظر ہے مگر وہ مشرقی ذہن سے…
Read Moreدیباچہ ’’خواب دریچہ‘‘ ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی
پیش گفتار جلیل عالی نے اپنے دل کی لوح پر سچائی کا اسم روشن کر رکھا ہے۔یہ اس کے اپنے الفاظ ہیں مگر خود ستائی سے مبرا،اس لئے سچے اور دیانت دارانہ ہیں۔اس نے مرئی اور ظاہری سچائیوں پر ہی اکتفا نہیں کیابلکہ ڈھکی چھپی سچائیوں کابھی کھوج لگایا ہے۔ان سچائیوں کو ہر جہت سے پرکھا اور برتا ہے۔ہر سچے شاعر کی طرح اس کی منزل بھی وہ آخری سچائی، وہ آخری صداقت یا وہ آخری حقیقت ہے، جس کے لئے انسان نے مہذب ہونا سیکھا ۔کون کہہ سکتا ہے…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ ڈاکٹر رشید جہاں
ڈاکٹر رشید جہاں ڈاکٹر رشید جہاں پہلی ترقی پسند خاتون تھیں جو عملی طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئیں بل کہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ اِس تحریک کے بانی اراکین میں شامل تھیں۔۱۹۰۵ء میں متحدہ ہندوستان کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔اُن کے والد شیخ عبداللہ علی گڑھ کے معروف ماہر تعلیم اور علی گڑھ کالج برائے خواتین کے بانی تھے۔حکومتِ ہند کی طرف سے تعلیمی خدمات پر انہیں پدم بوشن ایوارڈ بھی دیا گیا۔اُن کی والدہ وحید شاہجہاں بیگم ایک رسالہ ’’خاتون‘‘…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ حجاب امتیاز علی
حجاب امتیاز علی حجاب امتیاز علی اُردو ادب کی پہلی فکشن نگار خاتوں ہیں جنہوں نے تحیر آمیزی اور خوف ناکی سے اُردو ادب کے قاری کے چونکایا۔ مزید براں انہوں نے کوشش کی کہ افسانے کی فن کی روح اور تیکنیک پر عمل کیا جائے۔وہ ماحول کو سحر زدہ کر کے قاری کو متجسس کر دیتی تھیں۔اُن کا اسلوب بر جستہ اور مرصع ہوتا تھا۔اُن کے پلاٹ میں رومانیت بھی تھی اور وہ زیادہ تر متمول اور اونچے گھرانوں کے کرداروں کے گرد گھومتا تھا۔ اُ‘ن کے موضوعات میں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ نذر سجاد حیدر
نذر سجاد حیدر نذر سجاد حیدرکا شمار اُردو کی اولین خواتین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد مضامین اور مختصر کہانیوں کے علاوہ اصلاحی و معاشرتی ناول بھی لکھے۔ نذر سجاد حیدر نے بیسویں صدی کے اوائل میں اپنا تخلیقی سفر شروع کیا۔ یہ سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا دور تھا۔ ایک طرف لوگ انگریزی حکومت کے خلاف حصول آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے تو دوسری طرف ہندوستان کے روایتی معاشرتی ڈھانچے میں زبردست تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔انہوںنے کئی ناول لکھے جن میں اختر النسا، آہ مظلوماں،نجمہ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ عذرا اصغر
عذرا اصغر عذرا اصغر کا شمار اِس وقت ہمارے سینئر اور منجھے ہوئے فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔وہ تقسیمِ ہند سے پہلے ۱۹۴۰ء میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔گھر میں ایک بڑی بہن اور دو بڑے بھائیوں کے بعد چھوٹی اولاد تھیں یعنی بچپن میں گھر بھر کاپیار ملا مگر والد کی دوسری شادی کی وجہ سے ہجرتیں بھی مقدر بنیں۔علمی تربیت دادا نے کی۔مسافرت اتنی رہی کہ تعلیمی سلسلہ بار بار ٹوٹتا جڑتا رہا۔ پاکستان ہجرت کی تو گوجرانوالہ سے سرگودھا اور پھر فیصل آباد میں آباد ہوئیں۔بعد ازاں لاہور،…
Read Moreعبدالحفیظ ظفر ۔۔۔ حفیظ ہوشیارپوری : ایک عمدہ غزل گو
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ غزل اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کی مقبولیت میں گلو کارہ نسیم بیگم اور گلو کار مہدی حسن نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے جس خوبصورتی سے اس غزل کو گایا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے اور پھر یہ فیصلہ کرنا بھی سہل نہیں کہ دونوں میں سے زیادہ اچھا کس نے گایا۔ یہ لازوال غزل حفیظ ہوشیار پوری کی ہے جنہوں نے اپنی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ شبہ طراز
شبہ طراز علم وادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے محترمہ شبہ طراز کا نام نیا نہیں ہے۔وہ شاعرہ، مصورہ، مدیرہ اور افسانہ نویس ہیں۔’اُن کی طبع شدہ کتب میں ’’جگنو ہنستے ہیں‘‘ (ہائیکو اور ماہیے)، ’’جھیل جھیل اداسی‘‘ (نظمیں)، ’’چاندنی میں رقص‘‘ (ہائیکو تراجم)، درد کا لمس (افسانے)، ریپنزل (نظمیں، غزلیں) شامل ہیں۔عذرا اصغر کے کراچی چلے جانے کے بعد ماہ نامہ تجدیدِ نو کو سہ ماہی جریدے میں بدل کر اس کا دوبارہ اجرا کیا لیکن کچھ مشکلات آڑے آئیں تو پرچہ بند کرنا پڑا۔کرشن چندر اِن کے…
Read More