محمد یعقوب آسی​ ۔۔۔ برگِ آوارہ کی تمثیل

برگِ آوارہ کی تمثیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (۱) کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لیے بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے نہ جانے کون سا لمحہ تھا جب میں نے خود کو امتحان میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ علی مطہر اشعر کی شاعری پر بات کرنا برگِ آوارہ کی تمثیل سے بھی زیادہ مشکل ہے ۔ بہاروں کے سودائی تو بہت ہیں کہ برگ و گل سب کو اچھے لگتے ہیں ۔ خزاں سے پیار کرنے کا سلیقہ کم کم لوگوں کو آتا ہے ۔ اشعر صاحب کا…

Read More

ڈاکٹر زاہد منیر عامر​ ۔۔۔ جھوٹی تہذیب اور سچا آدمی

جھوٹی تہذیب اور سچا آدمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہندوستانی راہ نما کا بیٹا کسی پری پیکر کی محبت میں مبتلا ہو گیا تھا۔لڑ کی بابا کے دوست کی بیٹی تھی۔خواہش تھی کہ اس چاہت کو جیون بھر کے بندھن میں بدل دیا جائے ۔۔۔مطالبہ باپ کے سامنے رکھا گیا۔۔۔نام ور اور جہاں دیدہ باپ نے کہا:’بیٹا! اگر اگلے پانچ برس تک تمھاری یہ خواہش زندہ رہی تو اپنے ہاتھوں تمھارا یہ مطالبہ پورا کر وں گا‘۔۔۔اور بیٹے کو دور دراز آزادی کی جنگ لڑ نے بھیج دیا۔ یہ پانچ سال نہیں…

Read More

ناصر زیدی ۔۔۔ حُسین سحر (لوگ کیوں زیرِزمیں روز چلے جاتے ہیں؟)

حُسین سحر (لوگ کیوں زیرِزمیں روز چلے جاتے ہیں؟) رواں سال یعنی۲۰۱۶ء میں یکم جنوری سے یکم اکتوبر تک پورے نوماہ کے دوران میں اس جہانِ فانی سے عالمِ جاودانی کو سُدھار جانے والے شعرا و ادبا ودانش وَر حضرات کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ محض نام گِنوانے میں زمانے لگ جائیں۔ اس موقع پر یہ مشہور ِ زمانہ شعر یاد آتا ہے: لوگ کیوں زیرِ زمیں روز چلے جاتے ہیں نہیں معلوم تہِ خاک تماشا کیا ہے؟ جانے والوں کا ذکرِ خیر ہی دراصل ان کا آخری…

Read More

ناصر زیدی ۔۔۔ مرزا : میرایار (پروفیسر ڈاکٹر مرزابیگ)

مرزا  :  میرایار (پروفیسر ڈاکٹر مرزابیگ) مرزامیرادوست نہیں،میرا یار ہے۔ مرزایعنی پروفیسر ڈاکٹر مرزاحامد بیگ! جسے میں پیار سے’ ’مرزاقادیان والے‘‘ کہہ کر پکارتا ہوں تو ملکہ ترنم کے گائے ہوئے اس پنجابی گیت کی طرح’’جدوں ہولی جئی لیندا میر اناں،میں تھاں مرجاندی آں‘‘مرزاتھاں نہیں مرجاتا،بلکہ میرے ’’ہولے جئی‘‘ نہیں، پورے زور سے اس لاحقے کے ساتھ پُکارنے پر کھلکھلا کر ہنستاہے اور پھر ہنستا ہی چلا جاتاہے۔ میری طرف سے دیے گئے اس اعزاز کو وہ اس طرح خوش دلی سے قبول کرتا ہے گویا اس کے من کی…

Read More

ناصر زیدی ۔۔۔ آہ قمر علی عباسی! چاند پورا ہے، روشنی کم ہے

آہ قمر علی عباسی! چاند پورا ہے، روشنی کم ہے کیسے کیسے نابغہ ٔ روزگار دُنیا سے اُٹھتے جا رہے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ چیونٹی کی رفتار سے بھی اُن کے متبادل پیدا نہیں ہو رہے۔ یوں تو کوئی کسی کا متبادل ہو ہی نہیں سکتا، پھر بھی یکم جنوری۲۰۱۳ء سے اب تک کے گزشتہ چھ ماہ کے عرصۂ روزو شب میں بقول ناصر کاظمی: اُٹھ گئے کیسے کیسے پیارے لوگ ہو گئے کیسے کیسے گھر خالی اس دُنیاے فانی سے عالمِ جاودانی کو سدھارجانے والے ادبا، شعرا…

Read More

اردو  میں ادبی تاریخ کی روایت کی کمی ہے: شمس الرحمٰن فاروقی ۔۔۔ رضوان احمد

معروف نقاد اور محقق شمس الرحمن فاروقی نے بیس فروری (۲۰۰۹) کو تاریخی خدا بخش لائبریری میں ”اردو ادب کی نئی تاریخ کی ضرورت“ کے موضوع پر اپنا عالمانہ خطبہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے اردو میں ادبی تاریخ کی ترتیب کی کوئی اعلیٰ اور صالح روایت موجود نہیں رہی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوشخص ڈیڑھ سو برس کی ذہنی غلامی سے آزاد ہو، وہی اردو ادب کی غیر جانب درانہ تاریخ لکھ سکتا ہے۔انہوں نے اپنے لکچر کے آغاز میں…

Read More

آلِ احمد سرور ۔۔۔ اردو تنقید کے بنیادی افکار

اردو میں تنقید مغرب کی دین ہے، تنقیدی شعور اس سے پہلے بھی تھا اور ایک طرف یہ فن کاروں کے اشارات و نکات میں ظاہر ہوتا تھا، دوسری طرف تذکروں کی مدح و قدح میں۔ مگر اس کی ضرورت اسی وقت محسوس ہوئی جب ۱۸۵۷ء کے بعد زندگی کے تقاضوں نے ادب کارخ موڑ دیا اور ادب کے مطالعے کے لیے ایک نئی نظر کی ضرورت پڑی۔ تذکروں میں فن کا تصور فنِ شریف کا ہے۔ اس میں جو افکار جھلکتے ہیں ان پر عینیت کا سایہ ہے۔ اس…

Read More

ڈاکٹر معین الدین عقیل … سید جمال الدین افغانی اور اقبال

سید جمال الدین افغانی اور اقبال جمال الدین افغانی کے عہد کا عالم اسلام بہ حیثیت مجموعی افتادگی و پژمردگی کا شکار تھا، لیکن یہی دَور عالم انسانی تہذیب کے لئے نہایت انقلاب افزا اور تحریک آمیز بھی ہے۔ اس میں سائنس کی ایجادات اور اس کی ترقیوں کے سبب زمان و مکان کی وسعتیں سمٹ جاتی ہیں اور قوائے فطرت کی تسخیر سے انسان اپنی زندگی کو نئے انداز سے ترتیب دینے لگتا ہے۔ یورپ کا صنعتی انقلاب سیاست اور معاشرے کی بنیادیں تبدیل کر دیتا ہے۔ فرانسیسی انقلاب…

Read More

محمد جمیل اختر ۔۔۔ ڈوبنے والوں کے خواب

ڈوبنے والوں کے خواب اس ملک کے لوگوں کی نیندوں میں دکھ بھرے خوابوں نے بسیرا کر لیا تھا۔۔ ۔۔ لوگ ہر تھوڑی دیر بعد چیخنے چلانے لگ جاتے، گھر میں کوئی نہ کوئی فرد جاگتا رہتا تاکہ ڈر کر جاگ جانے والوں کو بروقت پانی پلا کر حوصلہ دیا جا سکے ورنہ عموماً ڈرے ہوئے لوگ گھر سے نکل کر باہر کی جانب دوڑ لگا دیتے اور ایسے میں کئی ایک حادثات بھی ہو چکے تھے۔۔ ۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود ہر صبح کا اخبار ایسے حادثات…

Read More

ڈاکٹر غلام شبیر رانا … اختر انصاری دہلوی: جینے کی جد و جہد میں جی سے گزر گئے

اختر انصاری دہلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  جینے کی جد و جہد میں جی سے گزر گئے گردِشِ مدام اور پیہم شکستِ دِل کے نتیجے میں حساس تخلیق کار اضطراب اور اضمحلال کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب اُس کی کوئی اُمید بر نہ آئے اور نہ ہی اصلاح احوال کی کوئی صورت دکھائی دے تو زندگی ایک کرب، اذیت اور عقوبت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اختر انصاری دہلوی کی شاعری میں پائی جانے والی یہی کیفیت اس کے دِل پر اُترنے والے سب موسموں کا احوال پیش کرتی ہے۔ موزوں…

Read More