آلِ احمد سرور ۔۔۔ اُردو شاعری میں تصوف کی روایت

میلکام مگرج، مشہور انگریزی مصنف نے کہا ہے کہ ’’ہندوستان میں اب صرف وہی انگریز باقی رہ گئے ہیں جو تعلیم یافتہ ہندوستانی ہیں۔‘‘ اس پرلطف طنز سے یہ نکتہ ابھرتا ہے کہ مغربی اثرات کی کتنی ہی برکتیں رہی ہوں (اور یہ برکتیں مسلم ہیں) مگر ان کی وجہ سے اپنی تہذیبی بنیاد، ادبی سر مائے اور علوم و فنون کے متعلق آج کے تعلیم یافتہ طبقے کا رویہ بیگانگی بلکہ بے اعتنائی کا ہوگیا ہے۔ سرسید کی تحریک نے یقیناً ہماری ذہنی زندگی میں بڑی بیداری پیدا کی…

Read More

آلِ احمد سرور ۔۔۔ کچھ فراق کے بارے میں

فراق کی ایک رباعی ہے، ہر عیب سے مانا کہ جدا ہو جائے کیا ہے اگر انسان خدا ہو جائے شاعر کا تو بس کام یہ ہے ہر دل میں کچھ درد حیات اور سوا ہو جائے ہماری تنقید اب تک فنکار پر زیادہ توجہ کرتی رہی ہے، اس کے فن پر کم۔ فراق کی زندگی میں ان کی شخصیت کے نشیب وفراز کی وجہ سے ان کے فن کی پرکھ متاثر ہوتی رہی۔ اب وقت آیا ہے کہ ان کی رنگا رنگ شخصیت کے طلسم سے آزاد ہوکر ان…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ ایم زیڈ کنول

ایم زیڈ کنول لاہور میں مقیم معروف شاعرہ ایم زیڈ کنول کا پہلا شعری مجموعہ ’’چہرے گلاب سے‘‘ ۱۹۹۸ء میں منظر عام پر آیا تھا: یہ کون میری روح کے اندر اُتر گیا ہر سو دکھائی دیتے ہیں چہرے گلاب سے عمومی طور پر نئے شعرا و شاعرات کے پہلے مجموعۂ کلام میں فکری طور پر جوآرزوئیں، تمنّائیں اور کچی عمروں کے خواب ہوتے ہیں، اُن کی جگہ لا شعور و وجدان کی جمالیاتی کیفیات بہت بہتر ڈکشن میں پیش کی گئی تھیں۔اسلوبِ بیاں کو خوب صورت رنگ دینے والی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔۔ عشرت معین سیما

عشرت معین سیما …………………………………… ہم نے تو ہجرتوں کے تسلسل کا دکھ سہا اپنے نگر کے پار کے اُس پار ہی سہی یہ شعر جرمنی میں مقیم معروف پاکستانی شاعرہ، افسانہ نگار اور مترجم عشرت معین سیما کا ہے۔ توازن اور موزونیت بھی حسن ہی کا دوسرا نام ہے۔ وجدان و لا شعور کے پرزم سے اظہارِ ذات اور انکشافِ ذات کی دھنک رنگی پھوٹتی ہے تو خارجی عناصر پر غور و فکر ذمے داری کی جوت جگمگاتے اور ہمارے احساس کو لو دیتے ہیں۔ غزل و نظم میں جمالیاتی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ ریحانہ روحی

ریحانہ روحی رہائی مشرقی عورت کی کیا اسیری کیا یہاں قفس سے قفس تک اُڑان ہے اور بس میں اکثر نسائی شاعری میں ترقی پسند اور خانگی تانیثیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یا نسائی اسلوبِ بیاں میں اظہار کے مسائل پر کچھ تحریر کرتے ہوئے، مذکورہ بالا شعر کا حوالہ ضرور دیتا ہوں۔ یہ خوب صورت شعر نسائی شاعری کے ارتقا میں کئی شاعرات کی بنیادی فکر کی عکاسی کرتا ہے۔یہ شعر معروف شاعرہ ریحانہ روحی کا ہے جو کافی عرصہ وطن سے دور الخبر (سعودی عرب) میں…

Read More

آلِ احمد سرور ۔۔۔ حسرت کی عشقیہ شاعری: میری نظر میں

حسرت کی شاعری کی قدروقیمت کو پرکھتے وقت ان کے ان اشعار کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے: شعر در اصل ہیں وہی حسرت سنتے ہی دل میں جو اتر جائیں غالب و مصحفی و میر و نسیم و مومن طبعِ حسرت نے اٹھایا ہے ہر استاد سے فیض ہے زبانِ لکھنؤ میں رنگِ دہلی کی نمود تجھ سے حسرت نام روشن شاعری کا ہو گیا رکھتے ہیں عاشقانِ حسنِ سخن لکھنوی سے نہ دہلوی سے غرض تو نے حسرت کی عیاں تہذیبِ رسمِ عاشقی تجھ سے پہلے اعتبارِ شانِ…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ زاہدہ حنا

زاہدہ حنا زاہدہ حنا ایک ممتاز صحافی، کالم نگار، فکشن اور ڈراما نگار ہیں۔ ۵؍ اکتوبر ۱۹۴۶ء کے روز سہسرام (بہار) میں پیدا ہوئیں۔والد کی ملازمت کی وجہ سے بچپن رام پور میں گزرا۔اُردو اور فارسی کا کلاسیکی ادب اپنے والد سے پڑھا۔اِن کی ادبی تربیت میں والد کا بہت حصہ رہا۔بہت عرصے سے ایک قومی اخبار میں ’’نرم گرم‘‘ کے نام سے کالم لکھ رہی ہیں۔وہ ریڈیو پاکستان، بی بی سی اور وائس آف امریکا سے بھی منسلک رہیں۔ اِن دنوں ادارہ انجمن ترقیٔ اُردو، کراچی کی سربراہ ہیں۔اُن…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ پروین شاکر

پروین شاکر پروین شاکر کے ہاں بھی اظہارِ ذات اور انکشافِ ذات زیادہ ہے مگر اظہارِ بیاں کی ایسی خوب صورتی کے ساتھ کہ اُن کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہا رہی درد کی کائنات بن گیا۔اگرچہ وہ خود اپنے ہم عصروں میں پروین فنا سید،کشور ناہیداورفہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں مگراُن کے کلام کی تاثیر اور مقبولیت نے انہیں دورِ جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام پر لا کھڑا کیا۔یوں اُنہیں کم عرصے اور کم عمری ہی میں ایسی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی کہ پیش روؤں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ یاسمین حمید

یاسمین حمید ادبی دنیا میں یاسمین حمید کا پہلا تعارف شعری مجموعہ ’’پس آئینہ‘‘ (1988 ء) سے ہوا۔وہ بہت پہلے سے شعر کہہ رہی تھیں اور پختہ کار تھیں۔ لہٰذا فکری و اسلوبیاتی سطح پر پسِ آئینہ نے ادبی دنیا پر اپنا بھر پور تاثرقائم کیا۔ہم محدود مطالعے کے باعث نسائی شاعری کو ادا جعفری سے شروع کر کے پروین شاکر یا پھر شبنم شکیل پر ختم کر دیتے ہیں۔حالاںکہ اُن کی پیش رو شاعرات کے ابتدائی شعری مجموعے زیرِ مطالعہ لائیے، آپ اِس بات سے اتفاق کریں گے کسی…

Read More

ڈاکٹر ضیاء الحسن​ … محمد حمید شاہد کا افسانوی اسلوب​

محمد حمید شاہد کا افسانوی اسلوب​ …………………………………………………………. جس طرح ہر کہانی افسانہ نہیں ہوتی، اسی طرح ہر افسانے میں کہانی کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔کہانی اور افسانے میں ایک نامعلوم سا لطیف تعلق ہو تا ہے جو ٹوٹ جائے تو لفظوں کا گورکھ دھندہ رہ جاتا ہے اور اگر صرف یہی تعلق رہ جائے تو حاصل جمع کہانی کی صورت میں بچتا ہے ۔افسانہ نگار کہانی بیان نہیں کر تا بل کہ کہانیوں کے باطن میں پوشیدہ کسی ایسے عنصر کو گرفت میں لینے کی کوشش کرتا ہے جس…

Read More