ظفر اقبال

جہاں تہاں مرے ٹکڑے بکھرتے جاتے ہیں بُرا نہیں یہ مرا انتشار میں ہونا

Read More

ڈاکٹر توصیف تبسم

کر دیا شدتِ احساس نے پتھر، توصیف کوئی روتا ہے تو اب دل نہیں دُکھتا میرا

Read More

اظہر فراغ…. حساب کرنے کی کوششوں میں ہم اس کی باتوں میں آگئے ہیں

حساب کرنے کی کوششوں میں ہم اس کی باتوں میں آگئے ہیں نئے طلب کردہ سب خسارے پرانے کھاتوں میں آگئے ہیں گریز کرتی ہوئی یہ ٹہنی ابھی جو خود میں سمٹ رہی تھی ذرا سی کھینچی ہے اپنی جانب تو پھول ہاتھوں میں آگئے ہیں اے شب گزیدو! ہماری نیندیں حرام ہونا الگ ستم ہے اداس شاموں کے سلسلے بھی ہماری راتوں میں آ گئے ہیں ہم ابر پارے دھنک کی زد میں کچھ ایسے آئے کہ ہائے ہائے گھرے ہوئے ہیں چہار رنگوں میں اور ساتوں میں آ…

Read More

خواجہ حیدر علی آتش ۔۔۔ توڑ کر تارِ نگہ کا سلسلہ جاتا رہا

توڑ کر تارِ نگہ کا سلسلہ جاتا رہا خاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا کون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامانِ یار کب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا خارِ صحرا پر کسی نے تہمتِ دُزدی نہ کی پائوں کا مجنوں کے کیا کیا آبلہ جاتا رہا دوستوں سے اس قدر صدمے ہوئے ہیں جان پر دل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا جب اٹھایا پائوں آتش مثلِ آوازِ جرس کوسوں پیچھے چھوڑ کر مَیں قافلہ جاتا رہا

Read More

غلام ہمدانی مصحفی

گرفتاری پہ میری بس کہ آہن گریہ کرتا ہے رواں ہوتا ہے چشمِ حلقۂ زنجیر سے پانی

Read More

برج نرائن چکبست

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب موت کیا ہے انھیں اجزا کا پریشاں ہونا

Read More

افضل خان

وصل و ہجراں میں تناسب راست ہونا چاہیے عشق کے ردِ عمل کا مسئلہ چھیڑوں گا مَیں

Read More

نجیب احمد…. اک اک شے کے بھاؤ بدلتے دیکھے ہیں

اک اک شے کے بھاؤ بدلتے دیکھے ہیں ہم نے گھر، بازار میں ڈھلتے دیکھے ہیں ہم تو جھیل ہیں، کائی اوڑھے لیٹے ہیں چلنے والے نیند میں چلتے دیکھے ہیں کیسی قیامت اپنے سر سے گزری تھی کیا کیا سائے سر سے ڈھلتے دیکھے ہیں چنگاری کو سورج بنتے دیکھا ہے انگاروں کو شہر نگلتے دیکھے ہیں ڈوبتے دیکھا قافلوں کو صحراؤں میں لاشے دریاؤں سے نکلتے دیکھے ہیں کس کے نام نے "میر” کے شعر کا روپ بھرا کس کے نام پہ دیپ اچھلتے دیکھے ہیں دل تو…

Read More

الفت رسول

مسلسل غور کرنے سے کوئی بھی چیز ہو، اس میں دکھائی دینے لگتا ہے خدا ، آہستہ آہستہ

Read More

احمد فراز …. ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے

ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے کہ ہم کو دستِ زمانہ سے زخم کاری لگے اُداسیاں ہوں‌ مسلسل تو دل نہیں‌ روتا کبھی کبھی ہو تو یہ کیفیت بھی پیاری لگے بظاہر ایک ہی شب ہے فراقِ یار، مگر کوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے علاج اس دلِ درد آشنا کا کیا کیجے کہ تیر بن کے جسے حرفِ غمگساری لگے ہمارے پاس بھی بیٹھو، بس اتنا چاہتے ہیں ہمارے ساتھ طبیعت اگر تمہاری لگے فراز تیرے جنوں کا خیال ہے، ورنہ یہ کیا ضرور وہ…

Read More