نہ کر تلاشِ اثر، تیر ہے، لگا نہ لگا جو اپنے بس کا نہیں، اُس کا آسرا نہ لگا حیات لذتِ آزار کا ہے دوسرا نام نمک چھڑک تو چھڑک، زخم پر دوا نہ لگا مرے خیال کی دنیا میں اس جہان سے دور یہ بیٹھے بیٹھے ہوا گم کہ پھر پتا نہ لگا خوشی یہ دل کی ہے، اس میں نہیں ہے عقل کو دخل بُرا وہ کہتے رہے اور کچھ بُرا نہ لگا چمک سے برق کی، کم تر ہے وقفہِ دیدار نظر ہٹی کہ اُسے ہاتھ اک…
Read MoreTag: غزلیں
تاجور نجیب آبادی
وفا کے گائے ہوئے گیت گا رہا ہوں مَیں سُنی سُنائی کہانی سُنا رہا ہوں مَیں
Read Moreاصغر گونڈوی
ترا جمال ہے، تیرا خیال ہے، تُو ہے مجھے یہ فرصتِ کاوش کہاں کہ کیا ہوں مَیں
Read Moreاثر لکھنوی ۔۔۔۔۔۔ وہ آنکھ، وہ تیور، وہ مدارات نہیں ہے
وہ آنکھ، وہ تیور، وہ مدارات نہیں ہے کس طرح کوئی مان لے، کچھ بات نہیں ہے ملنے کا یہ انداز نیا تم نے نکالا گویا کبھی پہلے کی ملاقات نہیں ہے جو آپ کہیں اس میں یہ پہلو ہے، وہ پہلو اور ہم جو کہیں بات میں وہ بات نہیں ہے کہنے کو یہاں رندِ خرابات بہت ہیں دل گرمیِ رندانِ خرابات نہیں ہے آ جائے گا سو بار، اثر! منہ کو کلیجا باتوں میں جو کٹ جائے یہ وہ رات نہیں ہے
Read Moreجگر مراد آبادی
عمر بھر روح کی اور جسم کی یک جائی ہو کیا قیامت ہے کہ پھر بھی نہ شناسائی ہو
Read Moreجوش ملسیانی ۔۔۔ چھوڑ دو غصے کی باتیں، اشتعال اچھا نہیں
چھوڑ دو غصے کی باتیں، اشتعال اچھا نہیں اتنا رنج، اتنا گِلہ، اتنا ملال اچھا نہیں خستگی بھی شرط ہے اُن کی نوازش کے لیے حال اچھا ہے اُسی کا جس کا حال اچھا نہیں گردشِ تقدیر کا چکر وہی جاری رہا! کیا مرے طالع میں، یارب! کوئی سال اچھا نہیں اب تمھاری چارہ سازی کا بھرم کھلنے کو ہے لوگ کہتے ہیں: مریضِ غم کا حال اچھا نہیں مر گئے جو راہِ اُلفت میں، مسیحا ہو گئے کون کہتا ہے محبت کا مآل اچھا نہیں بدنصیبی، بدنصیبی ہے مگر…
Read Moreعلامہ اقبال
عروسِ لالہ! مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب کہ مَیں نسیمِ سحر کے سوا کچھ اور نہیں
Read Moreاحسان دانش
دمک رہا ہے جو نَس نَس کی تشنگی سے بدن اِس آگ کو نہ ترا پیرہن چھپائے گا
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔۔۔۔ سوزِ غم دے کے مجھے اُس نے یہ ارشاد کیا
سوزِ غم دے کے مجھے اُس نے یہ ارشاد کیا جا، تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ جن کو تیری نگہِ لطف نے برباد کیا دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا جب چلی سرد ہَوا، میں نے تجھے یاد کیا اے مَیں سو جان سے اس طرزِ تکلّم کے نثار پھر تو فرمائیے، کیا آپ نے ارشاد کیا اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دِل برباد اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد…
Read Moreافضل خان ۔۔۔۔ مجھے رونا نہیں، آواز بھی بھاری نہیں کرنی
مجھے رونا نہیں، آواز بھی بھاری نہیں کرنی محبت کی کہانی میں اداکاری نہیں کرنی ہمارا دل ذرا اُکتا گیا تھا گھر میں رہ رہ کر یونہی بازار آئے ہیں خریداری نہیں کرنی تحمل، اے محبت ! ہجر پتھریلا علاقہ ہے تجھے اس راستے پر تیز رفتاری نہیں کرنی ہوا کے خوف سے لپٹا ہوا ہوں خشک ٹہنی سے کہیں جانا نہیں، جانے کی تیاری نہیں کرنی غزل کو کم نگاہوں کی پہنچ سے دور رکھتا ہوں مجھے بنجر دماغوں میں شجر کاری نہیں کرنی وصیت کی تھی مجھ کو…
Read More