حسرت موہانی ۔۔۔۔ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاق تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے بار بار اُٹھنا اُسی جانب نگاہِ شوق کا اور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بیباک ہو جانا مرا اور ترا دانتوں میں وہ اُنگلی دبانا یاد ہے کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً اور ڈوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے جان کر سوتا تجھے،…

Read More

امیر مینائی

میری حالت پر گرے ہیں بارہا اشک چشمِ روزنِ دیوار سے

Read More

خالد احمد ۔۔۔۔۔ دُھوپ کی، ریت کی، تنہائی کی، ویرانی کی

دُھوپ کی، ریت کی، تنہائی کی، ویرانی کی ہم نے اِک عمر ترے غم کی نگہبانی کی سایۂ دار اِدھر، سایۂ دیوار اُدھر چھائوں ڈھلتی ہی نہیں جرمِ تن آسانی کی عشق کاغذ کو بھی دیمک کی طرح چاٹ گیا خاک چھانے نہ ملی، دھاک سخن دانی کی صبح سے، شامِ شفق رنگ کا رستہ پوچھا راہ تکتی رہیں آنکھیں تری طغیانی کی یہ کرم آپ کیا اہلِ رضا پر، تُو نے ہمیں زحمت ہی نہ دی سلسلہ جنبانی کی

Read More

بیدل حیدری

پانی کی ایک بوند سی کھڑکی سے گر پڑی اب کے کمال سایہء دیوار کر گیا

Read More

غزل ۔۔۔ سوچ کی دستک نہیں یادوں کی خوشبو بھی نہیں

سوچ کی دستک نہیں، یادوں کی خوشبو بھی نہیں زیست کے بے خواب گھر میں کوئی جگنو بھی نہیں نااُمیدی! تیرے گھیرائو سے ڈر لگنے لگا دھڑکنوں کے دشت میں اک چشمِ آہو بھی نہیں جسم کے حساس پودے کو نمو کیسے ملے قرب کی ٹھنڈی ہوا کیا، کرب کی لو بھی نہیں ہم سفر ہیں مصلحت کا خول سب پہنے ہوئے دوستی کیا اب کوئی تسکیں کا پہلو بھی نہیں ضبط کے گہرے سمندر کو تموج بخش دے پیار کی جلتی ہوئی آنکھوں میں آنسو بھی نہیں وقت نے…

Read More

کلیاتِ نجیب احمد (برقی ایڈیشن)

کلیاتِ نجیب احمد DOWNLOAD

Read More

نظیر اکبر آبادی ۔۔۔۔ ہو کیوں نہ تِرے کام میں حیران تماشا

ہو کیوں نہ تِرے کام میں حیران تماشا یا رب ! تِری قُدرت میں ہےہر آن تماشا لے عرش سےتا فرش نئے رنگ، نئے ڈھنگ ہر شکل عجائب ہے، ہر اِک شان تماشا افلاک پہ تاروں کے  جھمکتے ہیں طلسسمات اور رُوئے زمیں پر گل و ریحان تماشا جِنّات، پَری، دیو، ملک، حوُر بھی نادر اِنسان عجوبہ ہیں تو حیوان تماشا (ق) جب حسن کے جاتی ہے مرقع پہ نظر، آہ! کیا کیا نظر آتا ہے ہر اِک آن تماشا چوٹی کی گندھاوٹ کہیں دِکھلاتی ہےلہریں رکھتی ہے کہیں زُلفِ…

Read More

کشفی ملتانی

رند بخشے گئے قیامت میں شیخ کہتا رہا: حساب! حساب! 

Read More

حسرت موہانی

سر کہیں، بال کہیں، ہاتھ کہیں، پائوں کہیں اُن کا سونا بھی ہے کس شان کا سونا دیکھو

Read More

ثاقب لکھنوی ۔۔۔۔۔ جو کل نہیں، آج کیا کریں گے

جو کل نہیں، آج کیا کریں گے عالم کا خراج کیا کریں گے دنیا سے شہیدوں کو علاقہ! سر ہی نہیں، تاج کیا کریں گے اُن آنکھوں سے ہو اُمید کیوں کر بیمار، علاج کیا کریں گے ہم خاکِ زمیں پہ سونے والے شاہوں سے مزاج کیا کریں گے رہنے دو ہماری عادتوں کو ہم رسم و رواج کیا کریں گے جمیعتِ دل ہے خوب، لیکن آشفتہ مزاج کیا کریں گے دو روز کی زندگی ہے ثاقب ہم کشور و تاج کیا کریں گے

Read More