آدرش دبے

ٹھہری ٹھہری سی زندگی کیوں ہے میری آنکھوں میں یہ نمی کیوں ہے

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں

پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں قارون ہیں جو، زر کی توقّع ہو اُن سے کیا ایسوں پہ اِس قبیل کا دھوکا ہمیں ہو کیوں بے فیض رہبروں سے مرتّب جو ہو چلی احوال کی وہ شکل، گوارا ہمیں ہو کیوں ملتی ہے کج روؤں کو نفاذِ ستم پہ جو ایسی سزا کا ہو بھی تو خدشہ ہمیں ہو کیوں رکھیں نمو کی آس بھلا کیوں چٹان سے ایسوں سے اِس طرح کا تقاضا ہمیں ہو کیوں ہم…

Read More

مجید امجد ۔۔۔ التماس

التماس مری آنکھ میں رتجگوں کی تھکاوٹ مری منتظر راہ پیما نگاہیں مرے شہرِ دل کی طرف جانے والی گھٹاؤں کے سایوں سے آباد راہیں مری صبح تیرہ کی پلکوں پہ آنسو مری شامِ ویراں کے ہونٹوں پہ آہیں مری آرزوؤں کی معبود! تجھ سے فقط اتنا چاہیں، فقط اتنا چاہیں کہ لٹکا کے اک بار گردن میں میری چنبیلی کی شاخوں سی لچکیلی بانہیں ذرا زلفِ خوش تاب سے کھیلنے دے جوانی کے اک خواب سے کھیلنے دے

Read More

فرہاد احمد فگار ۔۔۔ اردو نظم :ایک مضبوط روایت

اردو نظم نگاری کی باقاعدہ ابتدا تو سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی سے ہوگئی تھی لیکن یہ صنف انجمن پنجاب کے قیام کے بعد زیادہ ثروت مند ہوئی۔ بیس ویں صدی کے آغاز اور سرسید احمد خان کی تحریکِ علی گڑھ سے قبل نظیر ہی ایک ایسا نام تھا جس نے اردو نظم کی صورت میں اردو ادب میں اضافہ کیا۔ وہ ایک ایسا شاعر تھا جس نے اپنی نظم کے ذریعے وہ الفاظ و تراکیب بھی اردو ادب کے دامن میں بھر دیں جن سے پہلے اردو شاعری…

Read More

ڈاکٹر محمد جلیل اقبال خاکی ۔۔۔ جدید اردو نظم : مختصر تعارف

جدید اردو نظم مختصر تعارف شعر انسان کی تہذیبی  و معاشرتی  زندگی کے تجربات کا مرقع ہوتا ہے،ان ہی تجربات اور افکار کی روشنی میں جب کوئی تخلیق وجود میں آتی ہے تو وہ شاعری کا روپ اختیار کرتی ہے ۔ذہنی و فکری اور معاشرتی زندگی کا تنوع  زبان و ادب میں تنوع اور رنگا رنگی کی وجہ بھی، بائیں ہمہ شعر کے اندر بھی رفتار  زمانہ  اور انقلاب احوال کے  ساتھ تنوع  اور رنگا رنگی نیز جدت طرازی دیکھنے کو ملی،گویا شعرکو بھی ارتقائی ادوار سے گزرنا پڑاہے۔اس ارتقائی…

Read More

گوپی چند نارنگ ۔۔۔ جدید نظم کی شعریات اور کہانی کا تفاعل

جدید نظم کی شعریات اور کہانی کا تفاعل ادب میں نثر اور شاعری کی تفریق پرانی چلی آتی ہے۔ اس کو نثر اور نظم کا فرق بھی کہہ دیتے ہیں۔ نظم میں جدید نظم کا تصور نسبتاً نیا ہے، اردو میں یہ غیرملکی اثرات سے آیا، یعنی جدید نظم ہماری چیز نہیں ہے ہرچندکہ اردو میں رچنے بسنے کے نامیاتی عمل میں نظم کی ساخت بلکہ ساختوں میں جزوی تبدیلیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔ بہرحال ہماری اصل اصناف غزل، قصیدہ، مثنوی اور مرثیہ ہیں، چاہیں تو رباعی اور قطعے کا…

Read More

ڈاکٹر سعدیہ طاہر۔۔۔ ڈاکٹر وزیر آغا اور جدید نظم کی پہچان

Abstract The main focus of this essay is the contribution of Dr. Wazir Agha in critical appreciation of various poets who have given a distinct shape to new peom. He traces the evolution of the new poem from Muhammad Hussain Azad and Allama Iqbal to Akhtar-ul-Emaan and Majeed Amjad, from early nineteenth century to the late twentieth century. This is an everlasting contribution of Dr. Wazir Agha to Modern Urdu poetry.             ڈاکٹروزیر آغا نے اُردو ادب میں جدید نظم کی پذیرائی ، پہچان اور تحسین کی فضا پیدا کرنے میں…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ حمدﷻ

حمدﷻ جو تیری حمد کو ہو خوش رقم، کہاں سے آئے وہ روشنائی، وہ نوکِ قلم کہاں سے آئے گناہ گار ہوں اے میرے مہربان خدا! اگر گناہ نہ ہوں، چشمِ نم کہاں سے آئے اگر نہ تارِ نفس کا ہو سلسلہ تجھ سے یہ مجھ سے خاک نژادوں میں دم کہاں سے آئے تری رضا سے علاوہ، تری عطا کے بغیر بدن میں طاقت ِ رفتار و رَم کہاں سے آئے ترے کرم کے ترشُح بغیر دھوپ میں بھی ہَوا میں تازگیِ نم بہ نم کہاں سے آئے رجوعِ خیر…

Read More

غلام حسین ساجد … زمیں کا اور ہی کچھ رنگ تھا فضا کا اور

زمیں کا اور ہی کچھ رنگ تھا فضا کا اور میں اک نگاہ میں قائل ہُوا خُدا کا اور سُلگ رہا تھا تو اُس نے مجھے ہوا دی تھی میں جل اُٹھا تو ارادہ ہُوا ہوا کا اور سحر سے شام تلک کارواں اُترتے رہے تو رنگ ہونے لگا دشتِ نینوا کا اور چراغِ وصل کہیں اور بھی بھڑکتا تھا دُعا کا اور نشانہ تھا مُدعا کا اور ابھی میں پُوری طرح ڈوب بھی نہیں پایا ہُوا ہے نیند کے دریا میں اک چھناکا اور

Read More

محمد علوی ۔۔۔ دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ

دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ اک دن تو اپنے آپ کو مرتے ہوئے بھی دیکھ ہر وقت کھلتے پھول کی جانب تکا نہ کر مرجھا کے پتیوں کو بکھرتے ہوئے بھی دیکھ ہاں دیکھ برف گرتی ہوئی بال بال پر تپتے ہوئے خیال ٹھٹھرتے ہوئے بھی دیکھ اپنوں میں رہ کے کس لیے سہما ہوا ہے تو آ مجھ کو تو دشمنوں سے نہ ڈرتے ہوئے بھی دیکھ پیوند بادلوں کے لگے دیکھ جا بہ جا بگلوں کو آسمان کترتے ہوئے بھی دیکھ حیران مت ہو…

Read More