سید آل احمد

کتنے سموں کے شعلوں پر اک خواب جلے کتنی یادیں سر پھوڑیں دروازے سے

Read More

سید آلِ احمد

احمد گہری سوچ کی خو کب پائی ہے تم تو باتیں کرتے تھے اندازے سے

Read More

سید آل احمد

مجھ سے دریافت نئی صبح کا سورج ہوگا ریگِ صحرا کے اندھیروں میں مجھے رول کے دیکھ

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ نہ سہی پیار‘ حقارت سے کبھی بول کے دیکھ

نہ سہی پیار‘ حقارت سے کبھی بول کے دیکھ کوئی تو زہر مری روح میں تو گھول کے دیکھ میری آواز کہاں تک تری دیوار بنے شدتِ کرب سے تو بھی تو کبھی بول کے دیکھ اپنی تنہائی کے اس گھور اندھیرے سے نکل کیا ہے باہر کی فضا آنکھ ذرا کھول کے دیکھ مجھ سے دریافت نئی صبح کا سورج ہوگا ریگِ صحرا کے اندھیروں میں مجھے رول کے دیکھ ماند پڑ جائے گی ہر مہر زر و سیم کی دھوپ مجھ کو میزانِ تحمل میں کبھی تول کے…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ وقت کے طشت میں رکھا ہوا پتھر ہوں میں

وقت کے طشت میں رکھا ہوا پتھر ہوں میں حرف کا دشت ہوں معنی کا سمندر ہوں میں کون جانے کہ یہ خوشبو ہے عبارت مجھ سے کیسے سمجھاؤں کہ پھولوں کا مقدر ہوں میں مجھ کو آتا نہیں کاندھے پہ جنازہ رکھنا منجمد شہر! حرارت کا پیمبر ہوں میں اب بھی آتی ہے ترے قرب کے ایام کی آنچ اب بھی احساس کا ذخار سمندر ہوں میں آخرِ شب ہے‘ مری ذات سے نظریں نہ چرا اے غمِ ہجر! ترے قد کے برابر ہوں میں شہر میں حفظِ مراتب…

Read More

سید آلِ احمد

صبحِ جاں کی شبنم ہو ، دُھوپ ہو بدن کی تم سچ بتاؤ یہ جملے‘ کس کا ہات لکھتا تھا

Read More

سید آلِ احمد

خوب آدمی تھا وہ شہر کی اُداسی پر خامۂ تبسم سے دن کو رات لکھتا تھا

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ حادثوں میں رہتا ہے چہرہ لالہ گوں اپنا

حادثوں میں رہتا ہے چہرہ لالہ گوں اپنا حوصلے کا آئینہ ہے دلِ زبوں اپنا تیرا دھیان بھی جیسے کعبۂ تقدس ہو تیرے بعد بھی رکھا ہم نے سرنگوں اپنا رخشِ وصل کی باگیں دستِ شوق کیا تھامے فصلِ انبساط آگیں حال ہے زبوں اپنا فاصلوں کی دوپہریں رنگِ رُخ اُڑاتی ہیں خون خشک کرتا ہے دور رہ کے کیوں اپنا عقل بیٹھ جاتی ہے تھک کے جب دوراہے پر کام آ ہی جاتا ہے جذبۂ جنوں اپنا تجھ پہ بار کیوں گزرا میری چپ کا سناٹا تو جو خود…

Read More