مر رہتے جو گُل بِن تو سارا یہ خلل جاتانکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتامیں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہیک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتابِن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا توپُرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا
Read MoreTag: میر تقی میر
میر تقی میر
دل نے کیا کیا نہ درد رات دیے جیسے پکتا رہاکوئی پھوڑا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ گل شرم سے بہ جائےگا گلشن میں ہو کر آب سا
گل شرم سے بہ جائےگا گلشن میں ہو کر آب سا برقعے سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا گل برگ کا یہ رنگ ہے مرجاں کا ایسا ڈھنگ ہے دیکھو نہ جھمکے ہے پڑا وہ ہونٹ لعلِ ناب سا وہ مایۂ جاں تو کہیں پیدا نہیں جوں کیمیا میں شوق کی افراط سے بے تاب ہوں سیماب سا دل تاب ہی لایا نہ ٹک تا یاد رہتا ہم نشیں اب عیش روزِ وصل کا ہے جی میں بھولا خواب سا سناہٹے میں جان کے ہوش و حواس ودم…
Read Moreمیر تقی میر
عاشق ہو تو اپنے تئیں دیوانہ سب میں جاتے رہو چکر مارو جیسے بگولا خاک اُڑاتے آتے رہو
Read Moreکون ہے ، کیا ہے ، مظفر حنفی ۔۔۔ سید محمد ابوالخیر کشفی
کون ہے ، کیا ہے ، مظفر حنفی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات ساٹھ برسوں میں مظفر حنفی کی سمجھ میں نہیں آ سکی کہ: کون ہے ، کیا ہے ، مظفر حنفی تو پھر ہم کون ہیں کہ مظفر شناسی کا دعویٰ کریں۔ اور ویسے بھی یہ سوال انسان کی پیدائش کے ساتھ وجود میں آ گیا تھا کہ: من کیستم؟ مظفر حنفی کی غزل اس بات کا ادھورا جواب ہے کہ ’’کون ہے ، کیا ہے ، مظفر حنفی۔‘‘ اپنی تلاش اور اپنے آپ کو پانے کی جستجو…
Read Moreمیر تقی میر
وجہ ِ بے گانگی نہیں معلوم تم جہاں کے ہو، واں کے ہم بھی ہیں
Read Moreمیر تقی میر
اب کچھ مزے پہ آیا شاید وہ شوخ دیدہ آب اُس کے پوست میں ہے جوں میوہِ رسیدہ
Read Moreمیر تقی میر
استخواں کانپ کانپ جلتے ہیں عشق نے آگ یہ لگائی ہے
Read More