محبت پھول ہے، پتھر نہیں ہے مجھے رُسوائیوں کا ڈر نہیں ہے ستارے، چاندنی، مےَ، پھول، خوشبو کوئی شے آپ سے بڑھ کر نہیں ہے زمانے سے نہ کُھل کے گفتگو کر زمانے کی فضا بہتر نہیں ہے مرا رستہ یونہی سُنسان ہوگا مرے رستے میں تیرا گھر نہیں ہے مجھے وحشت کا رُتبہ دینے والے! ترے ہاتھوں میں کیوں پتھر نہیں ہے محبت اَدھ کِھلی کلیوں کا رس ہے محبت زہر کا ساغر نہیں ہے نظر والو! چمک پر مر رہے ہو ہر اِک پتھر یہاں گوہر نہیں ہے…
Read MoreTag: مے
عبد الحمید عدم ۔۔۔۔۔ ہائے کس ، ڈھب کی بات ہوتی ہے
ہائے کس ، ڈھب کی بات ہوتی ہے گیسو و لب کی بات ہوتی ہے جانِ من! کب کا ذکر کرتے ہو جانِ من! کب کی بات ہوتی ہے آپ اکثر جو ہم سے کرتے ہیں وہ تو مطلب کی بات ہوتی ہے آؤ ،تھوڑا سا نور لے جاؤ ماہ و کوکب کی بات ہوتی ہے جب بھی ہوتا ہے دن کا ذکر عدم ساتھ ہی شب کی بات ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: بطِ مے مطبوعہ: اپریل ۱۹۵۷ء کتاب گھر، امرتسر
Read Moreجوش ملسیانی ۔۔۔۔۔ سلامِ شوق پر کیوں دل کی حیرانی نہیں جاتی
سلامِ شوق پر کیوں دل کی حیرانی نہیں جاتی بڑے انجان ہو، صورت بھی پہچانی نہیں جاتی سبک دوشِ مصائب زندگی میں کون ہوتا ہے قضا جب تک نہیں آتی، گراں جانی نہیں جاتی نہیں ہوتا، کسی سے چارہِ وحشت نہیں ہوتا نہیں جاتی، ہماری چاک دامانی نہیں جاتی ستم کو بھی کرم سمجھا، جفا کو بھی وفا سمجھا مگر اِس پر بھی اُن کی چینِ پیشانی نہیں جاتی عجب خُو ہے کہ بے مطلب کی اکثر مان لیتے ہو مگر مطلب کی جب کہیے تو وہ مانی نہیں جاتی…
Read More