ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے جن سے امید تھی اور آگ لگانے آئے درد مندوں کی یوں ہی کرتے ہیں ہمدردی لوگ خوب ہنس ہنس کے ہمیں آپ رلانے آئے خط میں لکھتے ہیں کہ فرصت نہیں آنے کی ہمیں اس کا مطلب تو یہ ہے کوئی منانے آئے آنکھ نیچی نہ ہوئی بزمِ عدو میں جا کر یہ ڈھٹائی کہ نظر ہم سے ملانے آئے طعنے بے صبر یوں کے ہائے تشفی کے عوض اور دکھتے ہوئے دل کو وہ دکھانے آئے اور تو سب کے…
Read MoreTag: hafeez jaunpuri’s ashaar
حفیظ جون پوری ۔۔۔ نہ آ جائے کسی پر دل کسی کا
نہ آ جائے کسی پر دل کسی کا نہ ہو یا رب کوئی مائل کسی کا لگا اک ہاتھ بھی کیا دیکھتا ہے کہیں کرتے ہیں ڈر قاتل کسی کا ادا سے اس نے دو باتیں بنا کر کسی کی جان لے لی، دل کسی کا اٹھا جب دردِ پہلو، دل پکارا نہیں کوئی دمِ مشکل کسی کا ابھی جینا پڑا کچھ دن ہمیں اور ٹلا پھر وعدۂ باطل کسی کا بہت آہستہ چلمن کو اٹھانا ملیں آنکھیں کہ بیٹھا دل کسی کا حفیظ اس طرح بھرتے ہو جو آہیں…
Read Moreحفیظ جون پوری
مجھ سا بدمست کوئی رندِ قدح نوش نہیںکب بہار آئی تھی اتنا بھی یہاں ہوش نہیں
Read More