کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
Read MoreTag: Urdu adab
شہریار
شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے
Read Moreبشیر بدر
بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا
Read Moreسجاد بلوچ
کہاں زمیں کے ضعیف زینے پہ چل رہی ہے یہ رات صدیوں سے میرے سینے پہ چل رہی ہے
Read Moreڈاکٹر خورشید رضوی
تھکے ہوئے در و دیوار ہیں نہ دو دستک کہ گر پڑے نہ کہیں گھرکا گھر بنایا ہوا
Read Moreپروین شاکر
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
Read Moreسلام ۔۔۔ شاہد ذکی
سلام نہ گھر ‘ نہ راہ گُذر ہے’ عجیب منظر ہے قیام ہے’ نہ سفر ہے ‘عجیب منظر ہے سُنا تھا زر کا تہہ ِ خاک سے نکل آنا مگر یہ خاک ہی زر ہے’ عجیب منظر ہے ہرے درختوں کے دامان و دست خالی ہیں بُریدگاں پہ ثمر ہے’ عجیب منظر ہے شکار منع ہے جس میں’ اُسی مہینے میں امام خون میں تر ہے ‘عجیب منظر ہے نثار کرب و بلامیں، تری اداسی پر ترا یہ عیب ہُنر ہے، عجیب منظر ہے مِٹا مِٹا کے شبیہوں کو جاوداں…
Read Moreاختر عثمان
جب روح سے کہتے ہو کہ لبّیک حسینا ! پھر جی سے یزیدوں کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا ! کہتے ہو کہ ہو اُسوۂ شبّیر پہ قائم دربار میں کیوں جاتے ہو ، سَر کیوں نہیں جاتا !
Read Moreیوسف خالد
کوفہ مزاج لوگ کہاں جان پائیں گے جلتا دیا بجھا کے ہوا کون سرخرو کس کی عطا ہے دہر میں اب تک وفا پرست رہتے ہیں سر بلند ہی باطل کے روبرو
Read Moreشاہد اشرف ۔۔۔ اہلِ ایمان کو قطرہ بھی میسّر نہیں تھا
اہلِ ایمان کو قطرہ بھی میسّر نہیں تھا آبِ دریا, لبِ دریا بھی میسّر نہیں تھا پانی پیتے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھتا ہوں جتنا ضائع ہوا اتنا بھی میسّر نہیں تھا آگے جانے کے لیے شرط تھی بیعت کر لو واپسی کے لیے رستہ بھی میسّر نہیں تھا اس گھرانے سے زمانے کو شفا ہے جس کے ایک بیمار کو پُرسا بھی میسّر نہیں تھا ساتھ اُس وقت دیا ابنِ علی کا حُر نے جب عداوت کا سلیقہ بھی میسّر نہیں تھا جن سے دنیا کو ملا سایۂ رحمت…
Read More