سجاد بلوچ

کہاں زمیں کے ضعیف زینے پہ چل رہی ہے یہ رات صدیوں سے میرے سینے پہ چل رہی ہے

Read More

ڈاکٹر خورشید رضوی

تھکے ہوئے در و دیوار ہیں نہ دو دستک کہ گر پڑے نہ کہیں گھرکا گھر بنایا ہوا

Read More

پروین شاکر

میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی

Read More

سید مقبول حسین ۔۔۔ کیا اُتر آیا کسی غم کا اثر آنکھوں میں

کیا اُتر آیا کسی غم کا اثر آنکھوں میں کیوں لیے پھرتے ہو یہ لعل و گہر آنکھوں میں ہم تو آنے کے لیے کب سے کھڑے ہیں لیکن تم نے رکھا ہی نہیں ہے کوئی در آنکھوں میں پیار سے اس کی طرف دیکھ لیا کیا میں نے وسوسے رہنے لگے بن کے بھنور آنکھوں میں کب حسیں کوئی اچانک یونہی در آتا ہے دل کی ہوتی ہے کوئی راہ گزر آنکھوں میں یوں ہی رونا کہاں آتا ہے کسی کو مقبول اشک ہوتے ہیں کسی غم کا ثمر…

Read More

اظہر عباس ۔۔۔ مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک

مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک اک روز میں ہوں گا تجھے درکار ، انا الاشک میں اس کے شہیدوں کی ہوں تاریخ کا راوی ہوں خواب قبیلے کا عزادار ، اناالاشک پھر آنکھ سے بھی دیس نکالا مرا آیا بس اتنا بتایا تھا کہ سرکار ، انالاشک کیوں اتنا گھمنڈ آپ کو ہے ضبط و انا پر کر جاؤں گا مسمار یہ دیوار، اناالاشک یہ آنکھ کی سرحد بھی بدل دیتی ہے سب کچھ اس پار انا الحزن تو اُس پار ، اناالاشک یہ سارے سخنور…

Read More

رشید آفرین ۔۔۔ نہیں انسان کے کوئی برابر

نہیں انسان کے کوئی برابر ملائک کب ہوئے ہیں اس کے ہم سر کوئی آئے جواں ایسا دِلاور بچا لے آدمیت کو جو آ کر جہاں تنہائیاں ہوں اور اندھیرا کہیں اُس کو بھلا ہم دشت یا گھر عجب اک خوف کی زد میں ہوں کب سے کہیں مجھ کو نہ لے ڈوبے مِرا ڈر لیے پھرتا ہوں جو شانوں پہ اپنے نہیں میرا مجھے لگتا ہے وہ سر طلب میری کرم کی بھیک ہر پل درِ اقدسؐ کا ہوں ادنیٰ گداگر اُبھر کر جا لگا آخر کنارے تھا جو…

Read More

وسیم جبران ۔۔۔ کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے

کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے دلِ حزیں ترے جنگل میں آگ جلتی ہے برس رہے ہیں بہت گرم اشک پلکوں سے تمہاری آنکھ کے بادل میں آگ جلتی ہے چمن بہار میں افسردہ ہے تمہارے لیے گلوں میں، شاخ میں، کونپل میں آگ جلتی ہے اگرچہ لفظ ہے بس ایک ہی محبت کا لکھوں جو سرچ میں گوگل میں آگ جلتی ہے کتاب جنگ و جدل کی لکھی مورخ نے تو بابِ آخر و اول میں آگ جلتی ہے تمہارے عشق کی جبرانؔ کیا کہانی ہے…

Read More

میتھیو محسن ۔۔۔ کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی

کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی تشنگی پھر بھی کم نہیں ہوتی اتنا ارزاں لہو ہے آدم کا کوئی بھی آنکھ نم نہیں ہوتی راہِ ہستی بڑی کٹھن ہی سہی چاہ جینے کی کم نہیں ہوتی میں ہی عادی سا ہو گیا یا پھر بے رُخی کچھ ستم نہیں ہوتی سبھی کچھ ہے روا سیاست میں اس میں کوئی قسم نہیں ہوتی کون سی بات ہے مری محسن جو کسی جا رقم نہیں ہوتی

Read More

شاہد فرید ۔۔۔ کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے

کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے جِس اُور بڑھا ہوں میں ، وہ در کھلتا گیا ہے یوں گھورتے ہیں مجھ کو ترے شہر کے باسی جیسے کہ محبت نہیں کی ، جرم کیا ہے میں جال میں الجھا ہوا تھا اور اچانک صیاد مرے پاؤں میں خود آن گرا ہے یہ عشق ‘ محبت تو ہے ایمان کا حصہ شک ذہن میں در آیا ، مرا جرم بڑا ہے آہٹ کوئی محسوس ہوئی ہے سرِ دہلیز دستک کی ضرورت نہیں ‘ دروازہ کُھلا ہے میں کچھ بھی…

Read More