ماجد صدیقی ۔۔۔ پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں

پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں قارون ہیں جو، زر کی توقّع ہو اُن سے کیا ایسوں پہ اِس قبیل کا دھوکا ہمیں ہو کیوں بے فیض رہبروں سے مرتّب جو ہو چلی احوال کی وہ شکل، گوارا ہمیں ہو کیوں ملتی ہے کج روؤں کو نفاذِ ستم پہ جو ایسی سزا کا ہو بھی تو خدشہ ہمیں ہو کیوں رکھیں نمو کی آس بھلا کیوں چٹان سے ایسوں سے اِس طرح کا تقاضا ہمیں ہو کیوں ہم…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی

مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی مشیت اے بتو، اللہ کی خالی نہیں ہوتی خدائی تم نہ کر لیتے اگر دنیا حسیں ہوتی پسِ مردن مجھے تڑپانے والے دل یہ بہتر تھا تری تربت کہیں ہوتی مری تربت کہیں ہوتی اثر ہے کس قدر قاتل تری نیچی نگاہوں کا شکایت تک خدا کے سامنے مجھ سے نہیں ہوتی ہمیشہ کا تعلق اور اس پر غیر کی محفل یہاں تو پردہ پوشِ چشمِ گریاں آستیں ہوتی نہ رو اے بلبلِ…

Read More

قابل اجمیری

زمانہ کھیل رہا ہے تمہاری زلفوں سے ہمارے حالِ پریشاں کی بات کون کرے

Read More

مرزا غالب

بات پر واں زبان کٹتی ہے وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

Read More

جون ایلیا

یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم

Read More

اطہر نفیس

وہ دور قریب آ رہا ہے جب دادِ ہنر نہ مل سکے گی

Read More

اصغر گورکھپوری ۔۔۔ چلتے چلتے رک جاتا ہے

چلتے چلتے رک جاتا ہے دیوانہ کچھ سوچ رہا ہے اس جنگل کا ایک ہی رستہ جس پر جادو کا پہرا ہے دور گھنے پیڑوں کا منظر مجھ کو آوازیں دیتا ہے دم لوں یا آگے بڑھ جاؤں سر پر بادل کا سایا ہے اس ظالم کی آنکھیں نم ہیں پتھر سے پانی رستا ہے بھیگا بھیگا صبح کا آنچل رات بہت پانی برسا ہے

Read More

عقیدت ۔۔۔ آفتاب خان (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )

جینے کا مزا آئے سرکار کے سائے میں میں زیست گزاروں گا کردار کے سائے میں آقاؐ نے لگایا تھا اک باغ کھجوروں کا اے بخت وہیں لے چل اشجار کے سائے میں ہر وقت مرے لب پر بس اُنؐ کا درود آئے یہ عمر کٹے انؐ کے افکار کے سائے میں ہوتا ہے گزر ہر پل جنت کی ہواؤں کا بیٹھا ہی رہوں ان ؐکی دیوار کے سائے میں وہ دور صحابہؓ کا ذیشان و معزز تھا اے کاش میں رہتا اس دربار کے سائے میں جو دینِ محمدؐ…

Read More

افتخار شاہد ۔۔۔ دو غزلیں (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )

ہم لوگ ندیدے ہیں شجر کاٹ رہے ہیں جو صابر و شاکر ہیں ثمر کاٹ رہے ہیں یوں دوسری چاہت کا ارادہ تو نہیں تھا ہم پہلی محبت کا اثر کاٹ رہے ہیں ہم کیسے بتائیں کہ ترے ہجر کا عرصہ کٹتا بھی نہیں ہم سے مگر کاٹ رہے ہیں پہلے تو یہ در بھی اسی دیوار سے نکلے اب یوں ہے کہ دیوار کو در کاٹ رہے ہیں اے کاش کوئی آ کے ہمیں یہ تو بتائے ہم ڈوب رہے ہیں کہ بھنور کاٹ رہے ہیں اک عمر سے…

Read More