کسی بے انت لمحے میں….. ارشد نعیم

کسی بے انت لمحے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ جانے کون سا بے انت لمحہ تھا نہ جانے کون سی ہجرت کی ساعت تھی کہ جب میں نے تجھے، تو نے مجھے بے ساختہ آواز دی تھی سفر کی خامشی آواز کے دامن سے پھوٹی تو کھلا ہم پر کہ یہ اک دشت کی جانب روانہ قافلہ ہے جس میں ہم تم چل رہے ہیں عجب بے تاب موسم تھے عجب بے رنگ رستے تھے کوئی وحشت بدن کے ریشے ریشے سے نمایاں تھی عجب اسرار اُس منظر کا حصہ تھا کوئی…

Read More

ڈاکٹر توصیف تبسم

کر دیا شدتِ احساس نے پتھر، توصیف کوئی روتا ہے تو اب دل نہیں دُکھتا میرا

Read More

اظہر فراغ…. حساب کرنے کی کوششوں میں ہم اس کی باتوں میں آگئے ہیں

حساب کرنے کی کوششوں میں ہم اس کی باتوں میں آگئے ہیں نئے طلب کردہ سب خسارے پرانے کھاتوں میں آگئے ہیں گریز کرتی ہوئی یہ ٹہنی ابھی جو خود میں سمٹ رہی تھی ذرا سی کھینچی ہے اپنی جانب تو پھول ہاتھوں میں آگئے ہیں اے شب گزیدو! ہماری نیندیں حرام ہونا الگ ستم ہے اداس شاموں کے سلسلے بھی ہماری راتوں میں آ گئے ہیں ہم ابر پارے دھنک کی زد میں کچھ ایسے آئے کہ ہائے ہائے گھرے ہوئے ہیں چہار رنگوں میں اور ساتوں میں آ…

Read More

خواجہ حیدر علی آتش ۔۔۔ توڑ کر تارِ نگہ کا سلسلہ جاتا رہا

توڑ کر تارِ نگہ کا سلسلہ جاتا رہا خاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا کون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامانِ یار کب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا خارِ صحرا پر کسی نے تہمتِ دُزدی نہ کی پائوں کا مجنوں کے کیا کیا آبلہ جاتا رہا دوستوں سے اس قدر صدمے ہوئے ہیں جان پر دل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا جب اٹھایا پائوں آتش مثلِ آوازِ جرس کوسوں پیچھے چھوڑ کر مَیں قافلہ جاتا رہا

Read More

غلام ہمدانی مصحفی

گرفتاری پہ میری بس کہ آہن گریہ کرتا ہے رواں ہوتا ہے چشمِ حلقۂ زنجیر سے پانی

Read More

چارہ گر ۔۔۔۔ مخدوم محی الدین

چارہ گر ۔۔۔۔۔۔۔ اک چنبیلی کے منڈوے تلے مے کدے سے ذرا دور اس موڑ پر دو بدن پیار کی آگ میں جل گئے پیار حرفِ وفا پیار ان کا خدا پیار ان کی چتا دو بدن اوس میں بھیگتے، چاندنی میں نہاتے ہوئے جیسے دو تازہ رو، تازہ دم پھول پچھلے پہر ٹھنڈی ٹھنڈی سبک رو چمن کی ہوا صرفِ ماتم ہوئی کالی کالی لٹوں سے لپٹ گرم رخسار پر ایک پل کے لیے رک گئی ہم نے دیکھا انھیں دن میں اور رات میں نور و ظلمات میں…

Read More

برج نرائن چکبست

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب موت کیا ہے انھیں اجزا کا پریشاں ہونا

Read More

سراب….. شہزاد نیر

سراب … .. ترے آبِ گم کی تلاش پر مری زندگی کی اساس ہے مرے دل سے تیرے سراب تک مرا راستہ تری آس ہے وہ ارم عدن کہیں کھو گئے یہی چوبِ جاں مرے پاس ہے یہی ریگِ دل مرا جسم ہے یہی دشتِ درد لباس ہے اسی دشتِ درد میں دور تک تری آس ہے، مری پیاس ہے

Read More

افضل خان

وصل و ہجراں میں تناسب راست ہونا چاہیے عشق کے ردِ عمل کا مسئلہ چھیڑوں گا مَیں

Read More

محسن اسرار…. جب اس تماشا گر نے تماشا بدل دیا

جب اس تماشا گر نے تماشا بدل دیا میں نے بھی دیکھنے کا ارادہ بدل دیا ہم نے بھی حسبِ حال تری رائے کی طرح سچ بولنے کا اپنا طریقہ بدل دیا وحشت نہیں تھی مسئلہ آراستگی کا تھا بالوں کی کاٹ چھانٹ نے چہرہ بدل دیا خط کا جواب تو نہیں اس نے دیا، مگر کھڑکی پہ جو پڑا تھا وہ پردہ بدل دیا

Read More