بے معنی ۔۔۔۔۔ ہے مری ذات اِک زیاں کی دکان مجھ کو اپنا حساب کیا معلوم جب مجھے بھی نہیں کوئی احساس تم کو میرا عذاب کیا معلوم ہر کسی سے بچھڑ گیا ہوں مَیں کون دل میں مرا ملال رکھے شہرِ ہستی کا اجنبی ہوں مَیں کون آخر مرا خیال رکھے رایگانی ہے زندگی میری مَیں تو خود میں بھی رایگاں ہی گیا بے گمانی سی بے گمانی ہے مجھ سے تو خود مرا گماں ہی گیا کوئی بھی مجھ کو آسرا نہ ملا مَیں بھٹکتا رہا ہوں شہروں…
Read MoreMonth: 2019 نومبر
ایک الجھاوا ۔۔۔۔۔ توقیر عباس
ایک اُلجھاوا ۔۔۔۔۔ کتنے دنوں کی گرد پڑی ہے کتنی باتوں کی سرگوشیاں گونج رہی ہے اک ترتیب میں سب اوقات رکھے تھے خستہ دیواروں سے دیمک ایک مقدس لمس کو چاٹ رہی ہے خاک و خون میں غلطاں شبد پڑے ہیں اور چراغ اندھیرا چھوڑ رہا ہے کرنیں شام کی گود میں گر کر مر جاتی ہیں اور جو میں ہوں تنہا اک خود ساختہ غم کی موج میں سب کچھ میرے دم سے تھا اب تو کچھ بھی نہیں ہے
Read Moreغزل ۔۔۔۔ میں ہوں دھوپ اور تو سایا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں
میں ہوں دھوپ اور تو سایا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں جگ میں کس کا کون ہوا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں من مورکھ ہے‘ مت سمجھائو‘ کرنی کا پھل پائے گا چڑھتا دریا کب ٹھہرا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں تم تو اب بھی مجھ سے پہروں دھیان میں باتیں کرتے ہو ترکِ تعلق کیا ہوتا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں جانے والے‘ حد یقیں تک ہم نے جاتے دیکھے ہیں واپس لوٹ کے کون آتا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں میں سوچوں کی…
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
کون جگ میں ترا ہم سر دیکھے کوئی اس دھند میں کیوں کر دیکھے عمر بھر ایک ترا دھیان رہا یوں تو مہر و مہ و اختر دیکھے آنکھ صرف آنکھ ہے، آئینہ نہیں جو تجھے سامنے پا کر دیکھے تیرے جاتے ہی یہ محسوس ہوا عمر گزری تجھے پل بھر دیکھے دور ہی دور سلگنے والے کاش تو پاس بھی آ کر دیکھے ہم تو تھے حسن کے تاریخ نگار ہم نے قیصر نہ سکندر دیکھے لوگ ماضی کے دھوئیں میں ڈوبے ہم نے گیسوئے معنبر دیکھے نظر آئے…
Read Moreعلامہ طالب جوہری
دل کسی منزل کو پا لینے کی خواہش کیا کرے کھیت ہی جب کم زراعت ہوں تو بارش کیا کرے
Read More