مرزا واجد حسین یاس یگانہ

سمجھتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانہِ درد سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سُنا نہ گیا

Read More

قابل اجمیری

ہاں ہوشیار، چشمِ فسوں کار ہوشیار دل کو تری نگاہ کے انداز آ گئے

Read More

حفیظ اللہ بادل … زمین کھینچتے ہیں، آسمان کھینچتے ہیں

زمین کھینچتے ہیں، آسمان کھینچتے ہیں ہم اپنے جسم سے کیا کیا جہان کھینچتے ہیں بس ایک خطِ محبت ہے اور کچھ بھی نہیں جِسے ہم اپنے ترے درمیان کھینچتے ہیں کِھنچے ہوے ہیں کسی خواب کی کمان میں ہم اس ایک اڑان سے سارا جہان کھینچتے ہیں ہم اپنی عاجزی میں مَست ہیں سو شہر کے لوگ  براے شغل ہمیں پر زبان کھینچتے ہیں یہاں تو قیس کی نِسبت سے ہیں، وگرنہ ہمیں مکین کھینچتے ہیں اور مکان کھینچتے ہیں غزالِ دشت! ہمارا مزاج اپنا ہے ہم اپنے ہاتھ…

Read More

ممتاز اطہر … دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے

دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے وقت کی سانس اٹکنے لگی ہے میں نے رکھا ہے دریچے میں دیا اور ہوا راہ بھٹکنے لگی ہے عشق تھا پہلے پڑاٶ پہ ابھی پھر نٸی آگ دہکنے لگی ہے مجھ کو بھی خواب نے گھیرا ہوا ہے رات بھی آنکھ جھپکنے لگی ہے ایک دھندلی سی کسی یاد کی لَو کتنی یادوں میں دمکنے لگی ہے کوٸی صحرا مرے اندر ہے رواں ریت آنکھوں سے ٹپکنے لگی ہے اب ترا ساتھ ضروری ہے مجھے زندگی ہاتھ جھٹکنے لگی ہے کون اطہر…

Read More

فیصل ہاشمی

وہ آنکھ جس کے لیے میں اُداس رہتا ہوں بھری ہوئی ہے کسی اور ہی نظارے سے

Read More