نہ کہو یہ کہ یار جاتا ہے دل سے صبر و قرار جاتا ہے
Read MoreMonth: 2024 اکتوبر
ضیا الدین ضیا
کون سے زخم کا کھلا ٹانکا آج پھر دل میں درد ہوتا ہے
Read Moreمیر تقی میر
اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں
Read Moreظہیر دہلوی
حسابِ دوستاں دَر دل تقاضا ہے محبت کا مثل مشہور ہے الفت سے الفت آ ہی جاتی ہے
Read Moreسید آلِ احمد
یہ اور بات دل تھے کدورت کی خستہ قبر لہجوں میں نکہتوں سے بھرا بانکپن ملا
Read Moreمحسن اسرار
کیا بات چھپا رکھی ہے تو نے سرِ مژگاں چہرے پہ ترے انجمن آرائی بہت ہے
Read Moreولی دکنی
شغل بہتر ہے عشق بازی کا کیا حقیقی وہ کیا مجازی کا
Read Moreمظہر جانجاناں
خدا کے واسطے اس کو نہ ٹوکو یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے
Read Moreظہیر کاشمیری
آندھیاں اٹھیں فضائیں دور تک کجلا گئیں اتفاقاً دو چراغوں کی لویں ٹکرا گئیں
Read Moreپرکاش فکری
رفتہ رفتہ سب مناظر کھو گئے اچھا ہوا شور کرتے تھے پرندے سو گئے اچھا ہوا
Read More