کچھ نہ کچھ سوچتے رہا کیجے آسماں دیکھتے رہا کیجے چار دیواریٔ عناصر میں کودتے پھاندتے رہا کیجے اس تحیر کے کارخانے میں انگلیاں کاٹتے رہا کیجے کھڑکیاں بے سبب نہیں ہوتیں تاکتے جھانکتے رہا کیجے راستے خواب بھی دکھاتے ہیں نیند میں جاگتے رہا کیجے فصل ایسی نہیں جوانی کی دیکھتے بھالتے رہا کیجے آئنے بے جہت نہیں ہوتے عکس پہچانتے رہا کیجے زندگی اس طرح نہیں کٹتی فقط اندازتے رہا کیجے نا سپاسانِ علم کے سر پہ پگڑیاں باندھتے رہا کیجے
Read MoreMonth: 2024 اکتوبر
مرزا مظہر جانِ جاناں
یہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے سے زندگی کرتے اگر ہوتا چمن اپنا گل اپنا باغباں اپنا
Read Moreخورشید رضوی ۔۔۔ سات سمندر پار وطن کی یاد
سات سمندر پار وطن کی یاد ……………………………………………………………………………….. اے میرے وطن اے پیارے وطن جب اسکولوں کے گیٹ کھلیں جب بچوںکا ریلا آئے پتھر کی سڑک پر پھول کِھلیں خوشبوؤں کا دریا آئے جب ایک سی وردی پہنے ہوئے بچوں کو گھر والے بھولیں جب سائیکلوں اور تانگوں پر بستے لٹکیں، تھرمس جھولیں تب سات سمندر طے کر کے اُن کی چاپیں مجھ کو چھو لیں اور دل مین درد کی ہوک اُٹھے اے میرے وطن اے پیارے وطن جب رنگ بھرا ہو شاموں میں جب بور لدا ہو آموں میں…
Read Moreسراج اورنگ آبادی
مت کرو شمع کوں بدنام جلاتی وہ نہیں آپ سیں شوق پتنگوں کوں ہے جل جانے کا
Read Moreسید آلِ احمد
کسی کے لب پہ چراغِ دعا نہیں جلتا ہر ایک شخص کی جیسے زبان کالی ہے
Read Moreمحسن اسرار
ہذیان بک رہا ہوں سخن کے بجائے میں تنبیہ کر رہا ہوں کہ مجنوں سنے مجھے
Read Moreداغ دہلوی ۔۔۔ مجھے اے اہلِ کعبہ یاد کیا مے خانہ آتا ہے
مجھے اے اہلِ کعبہ یاد کیا مے خانہ آتا ہے اِدھر دیوانہ جاتا ہے، اُدھر پروانہ آتا ہے نہ دل میں غیر آتا ہے، نہ صاحب خانہ آتا ہے نظر چاروں طرف ویرانہ ہے، ویرانہ آتا ہے تڑپتا، لوٹتا اُڑتا جو بے تابانہ آتا ہے یہ مرغِ نامہ بر آتا ہے یا پروانہ آتا ہے مرے مژگاں سے آنسو پونچھتا ہے کس لیے ناصح ٹپک پڑتا ہے خود، جو اس شجر میں دانہ آتا ہے وہ نازک ہیں تو کیا اپنے سے خنجر پھر نہیں سکتا تجھے کچھ ننگ بھی…
Read Moreغلام حسین ساجد
اُن کو پانے کی تمنا نہیں جاتی دل سے کیا منور ہیں ستارے مری تابانی سے ؟
Read Moreآفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ بات جو کہنے کو تھی سب سے ضروری رہ گئی
بات جو کہنے کو تھی سب سے ضروری رہ گئی کیا کیا جائے غزل پہ بھی ادھوری رہ گئی رزق سے بڑھ کر اُسے کچھ اور بھی درکار تھا کل وُہ طائر اُڑ گیا، پنجرے میں چُوری رہ گئی تھی بہت شفاف لیکن دن کی اُڑتی گرد میں شام تک یہ زندگی رنگت میں بھُوری رہ گئی کیوں چلے آئے کھلی آنکھوں کی وحشت کاٹنے اُس گلی میں نیند کیا پوری کی پوری رہ گئی؟ بس یہی حاصل ہوا ترمیم کی ترمیم سے حاصل و مقصود میں پہلی سی دوری…
Read Moreشیخ ظہوالدین حاتم
فقیروں سے سنا ہے ہم نے حاتم مزا جینے کا مر جانے میں دیکھا
Read More