جگر کسی کا جلے دل جلے دماغ جلے وہ کہہ گئے ہیں کہ آئیں گے ہم چراغ جلے
Read MoreMonth: 2024 اکتوبر
ماجد صدیقی ۔۔۔ شہر پہ جانے کس افتاد کی گھڑیاں آنے والی ہیں
شہر پہ جانے کس افتاد کی گھڑیاں آنے والی ہیں خبروں پر مامور ہوئیں جتنی بھی زبانیں کالی ہیں ساحل کو چھو لینے پر بھی سفلہ پن دکھلانے کو دریاؤں نے کیا کیا موجیں اب کے اور اچھالی ہیں گلیوں گلیوں دستک دیتے، امن کی بھیک نہ ملنے پر دریوزہ گر کیا کیا آنکھیں، کیا کیا ہاتھ سوالی ہیں اُس کا ہونا مان کے، اپنے ہونے سے انکار کریں جابر نے کچھ ایسی ہی شرطیں ہم سے ٹھہرا لی ہیں حرف و زبان کے برتاؤ کا ذمّہ تو کچھ میر…
Read Moreشاہین عباس
ایک لکیر شام کی، کہتی تھی درمیاں کی بات خلقِ خدا کا ایک دن، باقی ہیں سب خدا کے دن
Read Moreظفر اقبال
اپنے مطلب کی ہے خاص ہنس مکھ اور آوارہ سی
Read Moreاکبر معصوم
جس منظر کو دیکھنے والا کوئی نہ ہو ایسا منظر دیکھنے والا ہوتا ہے
Read Moreاکبر الہ آبادی
عقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیال دنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی
Read Moreاحمد مشتاق
کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے
Read Moreاحمد فراز
جان پہچان سے بھی کیا ہوگا پھر بھی اے دوست! غور کر، شاید
Read Moreحمایت علی شاعر
ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ
Read Moreمحسن اسرار
مشہور ہے دروازے پہ دستک کی کہانی دیوار میں در ہونے کا قصہ کسے معلوم
Read More