یہ میری آگ ہے لیکن دھواں میرا نہیں ہے بیاں میرا سہی رنگِ بیاں میرا نہیں ہے
Read MoreMonth: 2025 فروری
سعادت یار خان رنگین
اس کے کوچے میں بہت رہتے ہیں دیوانے پڑے ان میں دیکھا تو میاں رنگیں نہ پہچانے پڑے
Read Moreسید ریاض حسین زیدی ۔۔۔ گلوں کی خندہ لبی سے ملی ہے آسائش
گلوں کی خندہ لبی سے ملی ہے آسائش عروج پر ہے بہارِ چمن کی آرائش سہانی یاد سے دل میں مہک سی اٹھتی ہے نفس نفس میں بہاراں ہوئی ہے زیبائش طلب کریں بھی کوئی مشورہ تو خود سے کریں جہاں میں ایک یہی معتبر ہے فہمائش یہ سوئے ظن،یہ بد اندیش وسوسے توبہ خدا کرے،رہے،یہ دور ہم سے آلائش رکیں تو وسعتِ صحرا بھی بڑھتی جاتی ہے بڑھیں تو خاک ہماری نظر میں آسائش ہزار موسموں کے پیچ و خم سے گزری ہے فروغِ دیدۂ و دل پھر بنی…
Read Moreرمیض نقوی ۔۔۔ اُس وقت اُس جگہ پہ وہی آدمی ملا
اُس وقت اُس جگہ پہ وہی آدمی ملا سورج کبھی تو میری گھڑی سے گھڑی ملا اے چاند اپنے عکس کو پانی میں گھول دے یہ جھیل پُرسکون بنا، روشنی ملا مدت کے بعد خود سے ملاقات ہو گئی مدت کے بعد آج کوئی اجنبی ملا میرے لئے ہی وقت کو یہ وسعتیں ملیں مجھ کو مرا وجود مگر سرسری ملا وہ جون کی "گمان” اٹھا سر کو پھوڑ لے آنکھوں میں خون، خون میں کچھ بے دلی ملا مشہور! خاندان میں ذہنی مریض ہیں جن جن کو بھی شعورِ…
Read Moreوزیر آغا ۔۔۔ چٹکی بھر روشنی
چٹکی بھر روشنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہونا تھا یہ ہونا تھا کہ میں نے اک عجب اسرار کے اندر چلے جانے کی خواہش کی جہاں خستہ چٹانیں جا بجا بکھری پڑی تھیں شجر پتھرا گئے تھے کلس مینار گنبد بھر چکے تھے جہاں اک دھند کا بے انت لمبا غار تھا جس میں نہیں کی بادشاہت تھی میں کھنچتا جا رہا تھا غار کی جانب اترتا جا رہا تھا اک عجب اسرار کے اندر جہاں اک پر تھا ٹھنڈی روشنی کا جو ہونے کی انوکھی داستاں اندھے خلا کی لوح پر…
Read Moreجمال احسانی
قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا وہ آیا بھی تو کسی اور کام سے آیا
Read Moreنادیہ سحر ۔۔۔ مرے ٹوٹے ہوئے دل کو دُکھانا مت کہا تھا نا
مرے ٹوٹے ہوئے دل کو دُکھانا مت کہا تھا نا اِن آنکھوں میں کبھی آنسو سجانا مت کہا تھا نا میں تنہا تھی میں تنہا ہوں مجھے معلوم ہے لیکن کبھی یہ بات تم مجھ کو بتانا مت کہا تھا نا مرے ہوتو مرے رہنا پرائے تم نہ ہوجانا تعلق تم زمانے سے نبھانا مت کہا تھا نا سمجھنے میں مجھے شاید غلط فہمی ہوئی تم کو مجھے احساس یہ ہرگز دلانا مت کہا تھا نا نہ ہو تعبیر جب ممکن تو سچائی بتا دینا کوئی بھی خواب اب مجھ…
Read Moreاقبال سروبہ ۔۔۔ جو بھی پتھر سے جا ملا ہو گا
جو بھی پتھر سے جا ملا ہو گا زخم گہرا اُسے لگا ہو گا لب کشائی کا شوق تھا جس کو اُس نے خاموش کر دیا ہو گا اِس لیے بار بار چونکتا ہے میرا دشمن نیا نیا ہو گا سب کی آسان زندگی ہو گی کون میری طرح جیا ہو گا جانے والے نے مُڑ کے دیکھا مجھے کچھ نہ کچھ وہ بھی سوچتا ہو گا میں بھی گر جاؤں گا تھکاوٹ سے وقت بھی ہوش کھو چکا ہو گا جس نے اقبال تجھ کو چھوڑ دیا کب کسی…
Read Moreکاشف حسین غائر ۔۔۔ چاند کیا ابر کی چادر سے نکل آیا ہے
چاند کیا ابر کی چادر سے نکل آیا ہے ایک آوارۂ شب گھر سے نکل آیا ہے اُس کو بھی چاہیے اب گھر سے نکل کر آئے رزق جس کے لیے پتھر سے نکل آیا ہے ایسا سناٹا ہے باہر کہ اسے دیکھنے کو شور سارا مرے اندر سے نکل آیا ہے اُس نے دستک کی سعادت نہیں بخشی مجھ کو چاپ سنتے ہی مری, گھر سے نکل آیا ہے کون اِس شہر میں زندہ ہے کہ پوچھے مجھ سے کیسے زندہ تُو سمندر سے نکل آیا ہے زخم سے…
Read Moreبشیر احمد حبیب ۔۔۔ برسوں کے بعد دل میں وہ جذبہ نہیں رہا
برسوں کے بعد دل میں وہ جذبہ نہیں رہا ہم مر مٹے تھے جس پہ وہ چہرہ نہیں رہا باتیں تو اس کی آ ج بھی دل کے قریب ہیں گھر کر گیا تھا دل میں جو لہجہ نہیں رہا اب مجھ میں بندگی کی وہ خواہش نہیں رہی تجھ میں بھی بے رخی کا سلیقہ نہیں رہا اس کی ہنسی میں صرف فریبِ حیات ہے اس کے لبوں پہ پھولوں کا کھلنا نہیں رہا اک روشنی تو آ ج بھی اس کی نظر میں ہے دل میں اتر سکے…
Read More